Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
100 - 342
کی زیارت کے لیے نہیں گیا تھا اس کا یہ انجام ہوا کہ درمیان راہ میں بیچ قافلہ کے اندر ایک درندہ جانور دراتا اورغراتاہواآیا اوراس شخص کو اپنے دانتوں سے دبوچ کر اور پنجوں سے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔

	یہ منظر دیکھ کر تمام اہل قافلہ نے یک زبان ہوکر یہ کہا کہ یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی بے ادبی وبے حرمتی کا انجام ہے ۔(1)
 (شواہد النبوۃ،ص۱۵۸)
تبصرہ
مذکورہ بالا تینوں روایتوں سے امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی جلالت شان اور دربارخداوندی میں انکی مقبولیت اورولایت وکرامت کا ایسا عظیم الشان نشان ظاہر ہوتاہے کہ ان کے مراتب کی بلندیوں کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا اورآخری روایت تو ان گستاخوں کے لیے بہت ہی عبرت خیز اورخوفناک نشان ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی شان میں بدزبان ہوکر خلفاء ثلاثہ پر تبرابازی کیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہمارے دور کے شیعوں کا مذموم وناپاک طریقہ ہے ۔

	اہل سنت حضرات پر لازم ہے کہ ان کی مجالس میں ہرگزہرگز قدم نہ رکھیں ورنہ قہر الٰہی میں مبتلا ہونے کا خطرناک اندیشہ ہے ۔ خداوندکریم ہر مسلمان کو اپنے قہرو غضب سے بچائے رکھے اورحضرات خلفاء کرام اورتمام صحابہ کرام رضی اللہ  تعالیٰ عنہم کی محبت وعقیدت کی دولت عطافرمائے ۔ آمین!
1…شواہد النبوۃ، رکن سادس دربیان شواھد ودلایلی...الخ،ص۲۱۰
Flag Counter