سے اس کی نگہبانی سے متعلق سوال ہوگا جیسا کہ رحمتِ عالم کا فرمانِ عظمت نشان ہے کہ'' نگہبان اور نگہبانی سے متعلق سب سے پوچھ گچھ ہوگی ، بادشاہ نگہبان ہے،اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا ، مرد اپنے گھر کا نگہبان ہے اس سے اس کی رعایا (یعنی گھر والوں )کے بارے میں سوال ہوگا ، عورت اپنے گھر کی نگہبان ہے اس سے اس کی رعایا (یعنی گھر والوں )کے بارے میں سوال ہوگا ۔ ''(صحیح البخاری،رقم۲۴۰۹،ج۳، ص۱۱۲)
اپنے بچوں کی امی (یعنی اپنی زوجہ)سے بھی حسن ِ سلوک کا مظاہرہ کرے ۔ اپنی ''جلالتِ علم ''کو بروئے کار لاتے ہوئے اسے بات بات پر جھاڑتا نہ رہے بلکہ اگر وہ غلطی بھی کربیٹھے تو صبر کرے کہ سرورِ عالم نورِ مجسم صلي الله تعالي عليه وسلم نے ارشادفرمایا:'' کامل ایمان والوں میں سے وہ بھی ہے جو عمدہ اخلاق والا اور اپنی زوجہ کے ساتھ سب سے زیادہ نرم طبیعت ہو ۔''(جامع الترمذی ، رقم الحدیث ۲۶۱۲،ص۱۹۱۵)
لہذا! استاذ کو چاہے کہ جس طرح وہ گھر سے باہر عجز وانکساری کا پیکر بن کررہتاہے اسی طرح اپنے گھر والوں کے سامنے بھی حسن ِ اخلاق کا مظاہرہ کرے کیونکہ بے احتیاطی کی صورت میں اس کے گھر والے اس سے بدظن ہوسکتے ہیں کہ ''موصوف باہر تو بڑے خوش اخلاق بن کر رہتے ہیں ،نہ جانے گھر واپس آنے کے بعد انہیں کیا ہوجاتا ہے ؟''
دُعا
اللہ تعالیٰ ہمیں اس کتاب میں بیان کردہ مَدَنی پھولوں کو اپنے دل کے گلدستے میں سجانے اور اس کی خوشبو سے اپنے جامعہ ومدرسہ کو معطر کرنے کی سعادت عطافرمائے اور ہمیں ''اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش'' کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین ا
تمت بالخیر والحمد للہ رب العلمین