Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
466 - 736
گھر سے مسجدوغیرہ کی طر ف جا تے ہوئے پڑھی جانے والی دعا کا ثواب
(۱۳۱۹)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدناانس رضی اللہ عنہ   سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جب آدمی گھر سے نکلتے وقت
بِسْمِ اللہِ تَوَ کَّلْتُ عَلٰی اللہِ لَاحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِا للہِ
کہتا ہے تو اس سے کہا جا تا ہے کہ'' یہ تیرے لئے کافی ہے تجھے ہدایت دی گئی اور تیری کفا یت کی گئی تو بچ گیا ۔''اور شیطان اس سے دور ہوجا تا ہے۔
(الترغیب والترہیب،کتاب الذکروالدعاء، باب الترغیب فیما یقول اذا خرج ...الخ ،رقم ۱ج۲،ص۳۰۴)
     ایک روایت میں ہے کہ اس وقت اس سے کہا جا تاہے کہ'' تو ہدا یت پاگیا اور تجھے ہدایت دے دی گئی اور کفا یت پاگیا۔'' تو شیطا ن اس سے دو ر ہوجا تا ہے۔ اس شیطان سے دو سرا شیطا ن کہتا ہے کہ'' تو اُس شخص کا اب کچھ نہیں کرسکتا جسے کفایت کی گئی اور جو ہدایت پاگیا اور بچا لیا گیا ۔''
    (سنن ابو داؤد ،کتاب الادب ، باب مایقول اذاخرج من بیتہ ، رقم ۵۰۹۵، ج ۴ ،ص۴۲۰)
 (۱۳۲۰)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ   سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جو مسلما ن گھر سے سفر یا کسی او رارادے سے نکلے پھر یہ دعا پڑھے
آمَنْتُ بِا للہِ  اعْتَصَمْتُ بِاللہِ تَوَ کَّلْتُ عَلَی اللہِ لَا حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِا للہِ
ترجمہ:میں اللہ پرایمان لایا ، میں نے اللہ کے سہارے کو مضبوطی سے تھاما، اللہ پر بھروسہ کیا کہ نیکی کی تو فیق اور برائی سے بچنے کی قوت اللہ عزوجل ہی کی طر ف سے ہے ۔''تو وہ اپنے اس ارا دے میں بھلائی پائے گا ۔''
     (مسندامام احمد ، مسند عثمان بن عفان ،رقم ۴۷۱، ج۱، ص ۱۴۴)
 (۱۳۲۱)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ   سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جو اپنے گھر سے نماز کے لئے نکلتے ہوئے یہ دعا پڑھے
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِحَقِّ السَّائِلِیْنَ عَلَیْکَ وَبِحَقِّ مَمْشَایَ ھٰذَافَاِنِّیْ لَمْ اَخْرُ جْ اَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَ لَا رِیَا ءً وَّلَا سُمْعَۃً وَّخَرَجْتُ اِتِّقَاءَ سَخَطِکَ وَابْتِغَا ءَ مَرْ ضَا تِکَ اَسْئَلُکَ اَنْ تُعِیْذَنِیْ مِنَ النَّا رِ وَاَنْ تَغْفِرَ لِیْ ذُنُوْ بِیْ اِنَّہ، لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْ بَ اِلَّا اَنْتَ
ترجمہ:اے اللہ! میں تجھ سے سا ئلین کے اس حق کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جو تیرے ذمہ کرم پر ہے اور اپنے اس چلنے کے حق کے وسیلہ سے مانگتا ہو ں کیونکہ میں تکبر کرنے، اترانے اور دکھاوے کے لئے نہیں نکلا بلکہ تیری ناراضگی سے بچنے اور تیری رضا چاہنے کے لئے نکلاہوں میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جہنم سے پنا ہ دیدے اور میرے گناہ بخش دے کیونکہ گناہ توہی مٹاتا ہے۔'' تو اللہ عز وجل اس پر نظر رحمت فرماتاہے اور سترہزار فر شتے اسکے لئے دعا ئے مغفر ت کر تے ہیں۔''
 (ابن ماجہ، کتا ب المساجد والجماعت ،با ب المشی الی الصلاۃ، رقم ۷۷۸ ،ج۱، ص ۴۲۸)
Flag Counter