کہہ دیاتو آپ نے ارشاد فرمایا ، ''ایسے نہیں! بلکہ
بِنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ
(الترغیب والترہیب ،کتاب النوافل ، باب التر غیب فی کلمات ...الخ ، رقم ۱ ج ۱ ،ص۲۳۲ )
(۱۳۱۳)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے بستر پر آتے وقت یہ کلمات پڑھے
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٌ لَاحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلَّا بِا للہِ سُبْحَا نَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ
ترجمہ:اللہ کے سواکوئی معبو د نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر شے پر قادر ہے نیکی کی تو فیق اور گناہوں سے بچنے کی قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے اللہ پاک ہے اور اللہ کے لئے تمام خوبیاں ہیں اور اللہ کے علاوہ کوئی معبو د نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔''اسکے گناہ معا ف کردیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے بر ابر ہوں ۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبان ،کتاب الزینۃ والتطیب ،باب آداب النوم ، رقم ۵۵۰۳،ج ۷، ص۴۲۳)
سُبْحَا نَ اللہِ وَبِحَمْدِ ہٖ
کہنے کا ذکر ہے اور آخر کے الفاظ یوں ہیں کہ'' اسکے گنا ہ معا ف کر دیے جا ئیں گے اگر چہ سمندر کی جھا گ سے زیادہ ہو ۔''
(التر غیب والترہیب ،کتاب النوافل ،باب الترغیب فی کلمات ج،،الخ ، رقم ۷،ج۱ ،ص ۲۳۴)
(۱۳۱۴)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جواپنے بستر پر آتے وقت تین مرتبہ یہ پڑھ لے
اَسْتَغْفِرُ اللہَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہ
ترجمہ:میں اس اللہ عزوجل سے بخشش چاہتا ہوں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ زندہ اور قیوم ہے اور میں اسی کی طر ف رجوع کرتا ہوں۔'' اسکے گناہ معا ف کردئیے جائیں گے اگر چہ سمند ر کی جھاگ کے برا بر ہو ں ،اگرچہ درختوں کے پتو ں کے برابر ہو ں، اگرچہ ٹیلو ں کی ریت کے ذرات کے برا بر ہو ں، اگر چہ دنیا کے ایا م کے برا بر ہوں ۔''
(ترمذی، کتا ب الدعوات، باب (۱۷) رقم ۳۴۰۸ ،ج۵، ص ۲۵۵)