| جنت میں لے جانے والے اعمال |
اللہ علیہ وسلم اس نے کہا کہ اگر میں اسے چھوڑ دوں تو وہ مجھے کچھ ایسے کلمات بتائے گاکہ جن کے سبب اللہ عزوجل مجھے نفع دے گا۔'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ،''وہ کون سے کلمات ہیں ؟'' میں نے عر ض کیا ،''اس نے مجھے بتا یا کہ جب تم اپنے بستر پر آؤ تو آیۃ الکرسی پڑھ لیاکرواللہ عزوجل کی طرف سے تمہارے لئے ایک محا فظ مقرر کردیا جائے گا اور صبح تک شیطان تمہارے پاس نہ آئے گا۔'' تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' وہ ہے توبڑا جھوٹا مگر اس نے تم سے سچ کہاہے۔'' پھر فرمایا،'' اے ابوہریرہ! کیاتم جانتے ہوکہ تین دن سے تمہارا مخاطب کون تھا ؟''میں نے عر ض کیا،''نہیں۔'' ارشادفرمایا،''وہ شیطا ن تھا۔''
(صحیح بخاری ،کتا ب الوکالہ ، باب اذا وکل رجلا ...الخ ،رقم ۲۳۱۱،ج۲ ،ص۸۲)
(۱۳۰۵)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم مسبّحات پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے کہ ان میں ایک ایسی آیت ہے جو ہزار آیتو ں سے بہتر ہے ۔ ''
(ابو داؤد کتاب الادب ،با ب مایقول عند النوم ،رقم ۵۰۵۷، ج۴ ،ص ۴۰۸)
وضاحت :
معاویہ بن صالح کہتے ہیں کہ'' بعض اہل علم کے نزدیک مسبحا ت چھ سو رتیں ہیں سو رہ حدید ،سورہ حشر، سورہ حوا ریین(یعنی سورہ صف)، سورہ جمعہ ،سورہ تغا بن اور سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی (یعنی سورہ ٔاعلی)۔'' (۱۳۰۶)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا نَوفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھ سے فرمایا،'' قُلْ یٰاَ یُّھَا الْکَافِرُوْنَ پوری پڑھ کر سو یا کروکیونکہ یہ شرک سے برا ء ت ہے ۔''
(ابوداؤد ،کتا ب الادب ،با ب مایقول عندالنوم ،رقم ۵۰۵۵ ،ج۴، ص ۴۰۷)
(۱۳۰۷)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جواپنے بستر پر سو نے کا ارا دہ کرے پھر اپنے دائیں پہلو پر لیٹ کرسو مرتبہ قُلْ ھُوَاللہُ اَحَدٌپڑھے اللہ رب العز ت قیامت کے دن اس سے فرمائے گا کہ،'' اے میرے بند ے !دا ئیں طر ف سے جنت میں داخل ہو جا ۔''
(جامع الترمذی ،کتاب فضائل القرآن ، باب ماجاء فی سورۃ الاخلاص ، رقم ۲۹۰۷ ، ج ۴، ص ۴۱۱)