| جنت میں لے جانے والے اعمال |
کہاتو یہ سو غلا م آزاد کرنے سے افضل ہے اور جس نے سو رج کے طلو ع اور غرو ب ہونے سے پہلے سومرتبہ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٌ
کہا توقیامت کے دن اس سے افضل عمل لیکر آنے ولاکوئی نہ ہوگا مگر جو اس کے مثل کہے یا زیادہ مرتبہ کہے ۔'' (۱۲۹۹)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا،''کیا میں تمہیں وہ حدیث پاک نہ سناؤں جو میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ،حضرتِ سیدنا ابو بکر صدیق اور حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے کئی مرتبہ سنی ہے۔'' میں نے کہا ،''ضرو ر سنا یئے ۔''فرمایا،'' جس نے صبح وشا م یہ کہا
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنْتَ تَھْدِ یْنِیْ وَاَنْتَ تُطْعِمُنِیْ وَاَنْتَ تَسْقِیْنِیْ وَاَنْتَ تُمِیْتُنِی وَاَنْتَ تُحْیِیْنِیْ
ترجمہ : اے اللہ! تو نے مجھے پیدا کیا اور تو نے مجھے ہدایت دی اور تو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور مجھے زندگی اور موت دینے والا ہے۔تو وہ اللہ عز وجل سے جو کچھ مانگے گا اللہ عزوجل اسے عطا فرمائے گا۔'' جب میں حضرتِ سیدنا عبداللہ بن سلا م رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے کہا ، ''کیا میں تمہیں وہ حدیث پاک نہ سنا ؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرتِ سیدنا ابو بکرا ور حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے کئی مرتبہ سنی ہے ۔''تو انہوں نے کہا،'' ضرو ر سنائیے ۔''تو میں نے انہیں یہی حدیث پاک سنائی تو حضرتِ سیدنا عبداللہ بن سلا م رضی اللہ عنہ نے کہا کہ'' میرے ماں با پ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربا ن !یہ وہ کلمات ہیں جواللہ عز وجل نے حضرتِ سیدنا موسی علیہ السلا م کو عطا فرمائے تھے اور موسی علیہ السلام روزانہ انکے وسیلے سے سات مرتبہ دعا کیا کرتے تھے ، وہ اللہ عز وجل سے جو بھی ما نگتے اللہ عزوجل انہیں عطا فرمادیا کرتا تھا۔''
(المعجم الاوسط، رقم ۱۰۲۸،ج۱، ص ۲۹۱)
(۱۳۰۰)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نےشہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے'
' مَقَا لِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ''
کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،''مجھ سے آج تک کسی نے اس کے بارے میں نہیں پوچھا، اسکی تفسیریہ ہے
، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغْفِرُا للہَ لَاحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ الْاَوَّلِ الظَّاہِرِ وَالْبَاطِنِ بِیَدِہِ الْخَیْرُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِ ْیرٌ
ترجمہ : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے اللہ پاک ہے اور میں اس کی حمد کے وسیلہ سے اللہ سے بخشش چاہتا ہوں نیکی کی تو فیق اور برائی سے بچنے کی قوت اللہ عزوجل ہی کی طر ف سے ہے وہ اوّل ہے ظاہر ہے باطن ہے تمام بھلائیاں اسی کے دستِ قد رت میں ہیں وہ زندہ کرتا اورما رتاہے اور وہ ہرشے پر قا در ہے ۔'' اے عثمان !جو اسے صبح میں دس مرتبہ پڑھے گا اللہ عزوجل اسے چھ خصلتیں عطا فرما ئے گا، پہلی: یہ کہ