'' اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَا فِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَا فِیَۃَ فِیْ دِیْنِیْ وَدُنْیَایَ وَاَھْلِیْ وَمَالِیْ اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِیْ وَ آمِنْ رَوْعَا تِی اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنَ یَدَ یَّ وَمِنْ خَلْفِی وَعَنْ شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ وَمِنْ تَحْتِی وَاَعُوْذُبِعَظْمَتِکَ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِی
ترجمہ:اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عفو ود ر گذراور عافیت کا سوال کرتاہوں اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا اور اہل ومال میں عفو وعافیت مانگتاہوں اے اللہ ! میری پر دہ پوشی فرما اور مجھے ڈرا ور خو ف سے امن عطا فرما، اے اللہ ! میرے آگے ، پیچھے ، دائیں ، بائیں او پر اور نیچے سے میری حفا ظت فرما اور میں تیری عظمت کی اس بات سے پنا ہ چاہتاہوں کہ مجھے نیچے سے دھوکہ دیا جائے ۔''
حضرتِ سیدنا وکیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نیچے سے دھوکہ دیاجانے سے مرا د خسف یعنی زمین میں دھنسناہے ۔''
(سنن ابن ماجہ، کتاب الدعاء، باب یدعوبہ الرجل اذا اصبح واذا مس، رقم ۳۸۷۱ ،ج۴، ص ۲۸۵)
(۱۲۹۸)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے صبح وشام سو سو مرتبہ
پڑھا تو وہ سو حج کرنے والے کی طر ح ہے او ر جس نے صبح شا م سو سو مرتبہ
کہا وہ را ہ خدا عزوجل میں مجا ہد ین کو سو گھوڑے دینے والے کی طر ح ہے یا فرمایا کہ سو مرتبہ جہاد کرنے والے کی طر ح ہے اور جس نے صبح وشام سو سو مرتبہ
پڑھا وہ اولاد اسماعیل علیہ السلام سے سو غلا م آزاد کرنے والے کی طرح ہے اور جس نے صبح شام سو سو مرتبہ
کہا تو اس دن اس سے زیادہ عمل کرنے والا کوئی نہ ہوگامگر جو اسکی مثل کہے یااس سے زیادہ مرتبہ کہے۔''
(جامع الترمذی ، کتاب الدعوات ،باب ۶۳ ، رقم ۳۴۸۲،ج۵،ص ۲۸۸)
ایک روایت میں ہے کہ جس نے سو رج طلوع ہونے سے پہلے اور غرو ب ہونے سے پہلے سو سو مرتبہ
کہا تو وہ سو قربانیاں کرنے والے سے افضل ہے اور جس نے سور ج کے طلو ع اور غرو ب ہونے سے پہلے سو مرتبہ
کہا تو وہ را ہِ خدا عزوجل میں سو گھو ڑے دینے والے سے افضل ہے اور جس نے سورج کے طلو ع وغرو ب ہونے سے پہلے سو مرتبہ