Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
456 - 736
نِّعْمَۃٍ اَوْبِاَحَدٍ مِّنْ خَلْقِکَ فَمِنْکَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ
ترجمہ:اے اللہ عزوجل ! مجھے یاتیری مخلوق میں سے جسے بھی کوئی نعمت ملی وہ تیری ہی جانب سے ملی ہے تو تنہا ہے تیرا کوئی شریک نہیں لہذا تیرے ہی لئے حمد اور تیرے ہی لئے شکر ہے۔'' تو اس نے اس دن کا شکر اداکردیا اور اس نے شام کے وقت کہاتواس نے اپنی اس را ت کاشکر اداکردیا۔''
   (سنن ابی داؤد ،کتا ب الادب ،باب مایقول اذا اصبح واذا امسی، رقم ۵۰۷۳ ،ج۴ ،ص ۴۱۳)
(۱۲۹۷)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم صبح وشا م کے وقت یہ کلمات پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے،
    '' اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَا فِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَا فِیَۃَ فِیْ دِیْنِیْ وَدُنْیَایَ وَاَھْلِیْ وَمَالِیْ اَللّٰھُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِیْ وَ آمِنْ رَوْعَا تِی اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنَ یَدَ یَّ وَمِنْ خَلْفِی وَعَنْ شِمَالِیْ وَمِنْ فَوْقِیْ وَمِنْ تَحْتِی وَاَعُوْذُبِعَظْمَتِکَ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِی
ترجمہ:اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عفو ود ر گذراور عافیت کا سوال کرتاہوں اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے دین و دنیا اور اہل ومال میں عفو وعافیت مانگتاہوں اے اللہ ! میری پر دہ پوشی فرما اور مجھے ڈرا ور خو ف سے امن عطا فرما، اے اللہ ! میرے آگے ، پیچھے ، دائیں ، بائیں او پر اور نیچے سے میری حفا ظت فرما اور میں تیری عظمت کی اس بات سے پنا ہ چاہتاہوں کہ مجھے نیچے سے دھوکہ دیا جائے ۔''

     حضرتِ سیدنا وکیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نیچے سے دھوکہ دیاجانے سے مرا د خسف یعنی زمین میں دھنسناہے ۔''
(سنن ابن ماجہ، کتاب الدعاء، باب یدعوبہ الرجل اذا اصبح واذا مس، رقم ۳۸۷۱ ،ج۴، ص ۲۸۵)
(۱۲۹۸)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ   سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے صبح وشام سو سو مرتبہ
سُبْحَا نَ اللہِ
پڑھا تو وہ سو حج کرنے والے کی طر ح ہے او ر جس نے صبح شا م سو سو مرتبہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ
کہا وہ را ہ خدا عزوجل میں مجا ہد ین کو سو گھوڑے دینے والے کی طر ح ہے یا فرمایا کہ سو مرتبہ جہاد کرنے والے کی طر ح ہے اور جس نے صبح وشام سو سو مرتبہ
لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ
پڑھا وہ اولاد اسماعیل علیہ السلام سے سو غلا م آزاد کرنے والے کی طرح ہے اور جس نے صبح شام سو سو مرتبہ
اَللہُ اَکْبَرُ
کہا تو اس دن اس سے زیادہ عمل کرنے والا کوئی نہ ہوگامگر جو اسکی مثل کہے یااس سے زیادہ مرتبہ کہے۔''
(جامع الترمذی ، کتاب الدعوات ،باب ۶۳ ، رقم ۳۴۸۲،ج۵،ص ۲۸۸)
     ایک روایت میں ہے کہ جس نے سو رج طلوع ہونے سے پہلے اور غرو ب ہونے سے پہلے سو سو مرتبہ
سُبْحَانَ اللہِ
کہا تو وہ سو قربانیاں کرنے والے سے افضل ہے اور جس نے سور ج کے طلو ع اور غرو ب ہونے سے پہلے سو مرتبہ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ
کہا تو وہ را ہِ خدا عزوجل میں سو گھو ڑے دینے والے سے افضل ہے اور جس نے سورج کے طلو ع وغرو ب ہونے سے پہلے سو مرتبہ
اَللہُ
Flag Counter