| جنت میں لے جانے والے اعمال |
تیرے فرشتوں اور تیری تمام مخلوق کو اس بات پر گواہ بنا کر صبح کرتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں۔'' تواللہ عزوجل اس کے چوتھائی حصہ کو جہنم سے آزاد فرمادے گا ،اور جو دو مرتبہ پڑھے تو اللہ عزوجل اس کے نصف جسم کو جہنم سے آزاد فرمادے گا ،اور جو تین مرتبہ پڑھے اللہ عزوجل اس کے تین چوتھائی حصے کو جہنم سے آزاد فرمادے گا ،اور جو چارمرتبہ پڑھے تو اسے مکمل جہنم سے آزاد فرمادے گا۔''
(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ،باب مایقول اذا اصبح ، رقم ۵۰۷۰ ، ج۴ ،ص ۴۱۲)
ایک روایت میں
وَحْدَکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ
پڑھنے کا بھی ذکر ہے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ ''اس کے اس دن کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں اور اگر شام کو پڑھے تو اس کے اس رات کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔''(جامع الترمذی ،کتاب الدعوات ، باب ۸۱،رقم۳۵۱۱ ، ج۵ ،ص۳۰۰)
(۱۲۹۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابومُنَیْذِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ،''جو صبح کے وقت یہ پڑھے
رَضِیْتُ بِاللہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا
ترجمہ:میں اللہ عزوجل کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم كے نبی ہونے پر راضی ہوں ۔'' تو میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑکرجنت میں داخل کرنے کی ضمانت دیتا ہوں۔''
(مجمع الزوائد، کتا ب الاذکار ،باب مایقول اذا اصبح واذا امسی، رقم ۱۷۰۰۵ج۱۰ ،ص ۱۵۷)
(۱۲۹۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوسلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں حمص کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص وہاں سے گزرا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ یہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے خادم ہیں ۔یہ سن کر میں ان کے پیچھے چل دیا اور ان سے عرض کیا کہ'' مجھے ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو ۔''توانہوں نے فرمایاکہ میں نے مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ''جس نے صبح وشام
رَضِیْنَا بِاللہِ رَبًّا وَّبِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلاً
کہا تو اللہ عزوجل پرحق ہے کہ وہ اسے راضی کردے۔''
(سنن ابی داؤد، کتا ب الادب ،باب مایقول اذا اصبح واذا امسی، رقم ۵۰۷۲ ،ج۴ ،ص ۴۱۳)
اورترمذی شریف کی روایت میں
وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا
کا ذکرہے۔''
(جامع الترمذی ،کتاب الدعوات ،باب ماجاء اذا اصبح واذا امسی ، رقم۳۴۰۰،ج۵ ،ص ۲۵۱)
(۱۲۹۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن غنّام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا:،'' جس نے صبح کے وقت کہا
اَللّٰھُمّ مَااَصْبَحَ بِیْ مِنْ