| جنت میں لے جانے والے اعمال |
''اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُلَااِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ رَبِّیْ وَاَنَا عَبْدُکَ اٰمَنْتُ بِکَ مُخْلِصًا لَّکَ دِیْنِیْ اِنِّیْ اَصْبَحْتُ عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَتُوْبُ اِلَیْکَ مِنَ سَيِّیءِ عَمَلِیْ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِذُنُوْبِیْ الَّتِیْ لَا یَغْفِرُھَا اِلَّا اَنْتَ
ترجمہ: اے اللہ تیرے لئے حمد ہے تیرے سوا کوئی معبو د نہیں تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں میں تیرے دین کے بارے میں مخلص ہو کر تجھ پر ایمان لایا اب میں جس قد ر استطاعت رکھوں تیرے عہد اور وعدے پر ہوں ،میں تیری بارگاہ میں اپنے برے اعمال سے تو بہ کرتا ہوں اور اپنے ان گناہوں کی بخشش چاہتاہوں جنہیں تیرے سوا کوئی نہیں مٹاسکتا ۔''
اگر اس کا اسی دن انتقال ہوجائے تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور اگر شام کے وقت تین مرتبہ پڑھا پھراس کا اسی را ت میں انتقال ہوجا ئے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس با ت پر ایسی قسم اٹھائی جو کسی اور کام پر نہ اٹھاتے تھے اورارشا د فرمایا کہ'' خدا کی قسم ! بندہ اگر کسی دن میں اسے پڑھے پھر اس دن اس کا انتقال ہوجا ئے تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور اگر رات میں اسے پڑھے اور اس را ت میں اسکا انتقال ہو جا ئے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔''(طبرانی کبیر، رقم۷۸۰۲ ، ج۸ ،ص ۱۹۶)
(۱۲۸۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے ایسا بچھو کبھی نہیں دیکھا جس نے مجھے گذشتہ را ت کا ٹا تھا ۔''سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفر مایا ،''تم نے شام کے وقت
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّا مَّا تِ مِنْ شَرِّمَا خَلَقَ
ترجمہ:میں اللہ عزوجل کی مخلوق کے شر سے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں۔''کیو ں نہ پڑھ لیا کہ بچھو تمہیں کوئی نقصا ن نہ پہنچا تا ۔ ''
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،کتاب الرقائق ،باب الاذکار ،رقم ۱۰۱۶،ج۲ ،ص ۱۸۰)
ایک روایت میں ہے کہ'' جس نے شام کے وقت تین مر تبہ
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّمَا خَلَقَ
پڑھا اسے اس را ت کوئی آفت نقصان نہ پہنچا سکے گی۔''
حضرتِ سیدنا سہیل علیہ الرحمۃفرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے لو گ یہ دعا سیکھا کرتے اور ہر رات اسے پڑھا کرتے تھے، ایک مرتبہ ایک لڑکی کو بِچھُو نے کاٹ لیا مگر اسے کوئی تکلیف محسو س نہ ہوئی۔ ''(التر غیب والترہیب ،کتاب النوافل ،باب فی آیات واذکار یقولھا الخ ، رقم ۶ ،ج۱،ص ۲۵۳ )
(۱۲۸۳)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا اَبان بن عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جو بند ہ ہر دن کی صبح اورہر رات کی شا م میں تین تین مرتبہ یہ پڑھے گا، تو اسے کوئی چیز نقصا ن نہ پہنچاسکے گی
'' بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَایَضُّرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ