Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
448 - 736
صبح وشا م پڑھی جانے والی سو رتو ں اورآیات کاثواب

(۱۲۷۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اُبَیّ بن کَعْب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ''ہمارا ایک گودام تھا جس میں ہم کھجوریں خشک کیا کرتے تھے ۔جب میں نے دیکھا کہ اس میں کمی آتی جارہی ہے تو ایک رات میں نے پہر ہ دیا تو میں نے بالغ لڑکے کی مثل ایک جانور دیکھا۔میں نے اسے سلام کیا تو اس نے سلام کا جواب دیاپھر میں نے پوچھا،'' تم جن ہو یا انسان؟'' اس نے کہا ،''جن ہوں۔'' میں نے کہا، ''اپناہاتھ مجھے دکھاؤ۔'' میں نے دیکھا کہ اس کا ہاتھ کتے کے پنجے کی طرح ہے اور اس پر بال ہیں ۔ میں نے پوچھا'' کیا جن ایسے ہی ہوتے ہیں ؟'' اس نے کہا، ''آپ تو جانتے ہی ہیں کہ مجھ سے طاقتور جن بھی موجود ہیں۔'' پھر میں نے پوچھا، ''تم میری کھجوریں کیوں چوری کرتے ہو ؟'' اس نے کہا،'' مجھے پتہ چلا تھا کہ آپ صدقہ کو پسند کرتے ہیں لہذا! میں نے آپ کے غلے میں سے ہی لینا شروع کردیا۔'' 

    میں نے اس سے پوچھا، ''کون سی چیز ہمیں تمہارے شر سے بچا سکتی ہے؟'' اس نے کہا ،''آیت الکرسی" جو شخص شام کو اسے پڑھے  گا وہ صبح تک  ہم ( یعنی جنات ) سے محفوظ رہےگا  اور جو صبح کو پڑھے گا  وہ شام تک ہم سے بچارہے گا۔ پھر جب صبح ہوئی تو   میں نے اسے چھوڑ دیا اور صبح رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور انہیں اپنا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا، ''اس خبیث نے بالکل سچ کہا۔''
        (المعجم الکبیر ، رقم ۵۴۱ ، ج ۱ ، ص۲۰۱)
 (۱۲۷۴)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھے تو دن میں رہ جانے والی کمی پوری ہوجائیگی اور جو شام کے وقت یہ کلمات پڑھے تو 'رات میں رہ جانے والی کمی پوری ہوجائے گی،
فَسُبْحٰنَ اللہِ حِیۡنَ تُمْسُوۡنَ وَ حِیۡنَ تُصْبِحُوۡنَ ﴿17﴾وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّ حِیۡنَ تُظْہِرُوۡنَ ﴿18﴾یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا ؕ وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوۡنَ ﴿٪19﴾
ترجمہ کنزالایمان:تو اللہ کی پاکی بولو جب شام کرو اور جب صبح ہو اور اسی کی تعریف ہے آسمانوں اور زمین میں اور کچھ دن رہے اور جب تمہیں دوپہر ہو وہ زندہ کونکالتا ہے مردے سے اور مردے کونکالتا ہے زندہ سے او رزمین کو جِلاتا ہے اس کے مرے پیچھے اور یونہی تم نکالے جاؤگے۔''(پ 21 ،الروم : 17،19)
(سنن ابی داؤ د، کتا ب الادب، باب مایقول اذا اصبح، رقم ۵۰۷۶، ج۴، ص ۴۱۴)
(۱۲۷۵)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ
Flag Counter