| جنت میں لے جانے والے اعمال |
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''اے ابوہریر ہ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانو ں میں سے ایک خزانے کے بارے میں نہ بتا ؤ ں؟'' میں نے عر ض کیا ،''یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ضرو ر بتا یئے۔'' فرمایا،'
' لَاحَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّبِاللہِ
پڑھاکرو اللہ عز وجل فرمائے گا میرے بندے نے سرِ تسلیم خم کرلیا۔''
ایک روایت میں ہے کہ تاجدارِ رسالت،رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''اے ابو ہر یر ہ رضی اللہ عنہ!کیا میں تمہیں جنت کے خزانو ں میں سے ایک خزا نے کے با رے میں نہ بتا ؤ ں؟'' میں نے عر ض کیا، ''یارسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضر ور بتائیے ۔''فرمایا،'' لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّبِاللہِ وَلَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْ جَاءَ مِنَ اللہِ اِلَّا اِلَیْہِ
پڑھا کرو ۔''
(التر غیب والتر ہیب ، کتاب الذکر والدعاء، التر غیب فی قول لا الہ الا اللہ ..الخ، رقم ۲ ،ج ۲ ،ص ۲۹۰)
(۱۲۶۹)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّبِاللہِ
پڑھا تو یہ (اسکے لئے ) ننانوے بیماریو ں کی دوا ہے ان میں سب سے ہلکی بیماری رنج والم ہے ۔''
(التر غیب والترھیب ، کتاب الذکر والدعاء، التر غیب فی اذ کا ر تقابل با للیل والنہار، رقم ۸ ،ج ۲، ص۲۹۲)
(۱۲۷۰)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عقبہ بن عامررضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جسے اللہ عز وجل نے کوئی نعمت عطا فر مائی پھر وہ بندہ اس نعمت کوبا قی رکھنا چاہتا ہوتو اسے چا ہیے کہ
لَاحَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّبِاللہِ
کی کثرت کرے۔''
(المعجم الکبیر ، رقم۸۵۹،ج۱۷ ،ص۳۱۰)
(۱۲۷۱)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ معراج کی رات آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم حضرتِ سیدنا ابرا ہیم علیہ السلام کے قریب سے گزرے توانہوں نے پوچھا ،''اے جبرئیل !تمہارے ساتھ کون ہے۔''انہوں نے عر ض کیا،'' یہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔'' حضرتِ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلمسے عر ض کیا،'' اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم! اپنی امت کو جنت کے پودوں میں اضافہ کرنے کا حکم دیجئے کیونکہ جنت کی مٹی پاکیزہ اور زمین وسیع ہے۔'' تو آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے استفسا ر فرمایا،'' کہ جنت کے پودے کیا ہیں ؟ '' حضرت سیدنا ابراھیم علیہ السلام نے جواب دیا،''
لَاحَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّبِاللہِ
(پڑھنا)۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث ابو ایوب الانصاری ، رقم ۲۳۶۱۱، ج ۹،ص ۱۴۱)
(۱۲۷۲)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جنت کے پودو ں میں اضا فہ کر و کیونکہ اسکا پانی میٹھا اور مٹی پا کیزہ ہے، لہذا اسکے پودو ں میں ا ضا فہ کرو۔'' صحابہ کر ام علھیم الرضوان نے عر ض کیا ،''یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جنت کے پودے کیا ہیں ؟''فرمایا
،'' مَاشَاءَ اللہُ لَاحَوْ لَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّبِااللہِ۔''
(طبرانی کبیر ،رقم ۱۳۳۵۴ ،ج۱۲، ص ۲۷۹)