| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۲۶۰)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے یہ کہا ''
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ تَوَاضَعَ کُلُّ شَیءٍ لِعَظَمَتِہٖ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ذَلَّ کُلُّ شَیءٍ لِعِزَّتِہٖ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَضَعَ کُلُّ شَیءٍ لِمُلْکِہٖ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اسْتَسْلَمَ کُلُّ شَیءٍ لِقُدْرَتِہٖ
ترجمہ:اللہ عزوجل کیلئے تمام خوبیاں ہیں جس کی عظمت کے آگے ہر شی سرنگوں ہے اور اس اللہ عزوجل کے لئے تمام تعریفیں ہیں جس کی عزت کے آگے تمام چیز یں ذلیل ہیں اور تمام تعریفیں اس اللہ عزوجل کے لئے ہیں جس کی حکومت کے سامنے ہر شے سرجھکائے ہے اور تمام تعریفیں اس اللہ عزوجل کے لئے ہیں جس کی قدرت کے سامنے ہر شے سر خمیدہ ہے ۔''
اور یہ کلمات اللہ عزوجل سے اجرو ثواب کی طلب میں کہے اللہ عزوجل اسکے لئے ایک ہزار نیکیاں لکھے گا اور اسکے ایک ہزار درجات بلند فرمائے گا اور ستر ہزار فرشتو ں کو قیا مت تک اسکے لئے استغفار کرنے پرمقر ر فرمائے گا۔''(مجمع الزوائد ،کتا ب الاذکار، با ب ماجاء فی الحمد ،رقم ۱۶۸۹۱ ،ج۱۰ ،ص ۱۱۶)
(۱۲۶۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جبرئیل امین علیہ السلا م نے آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عر ض کیا ،''یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !جب آپ دن یا رات میں اللہ عزوجل کی عبادت کا حق ادا کر نا چا ہیں تویہ کہہ لیا کریں'
' اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدًاکَثِیْرً ا خَا لِدًا مَعَ خُلُوْدِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا لَا مُنْتَھَی لَہُ دُوْنَ عِلْمِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا لَا مُنْتَھَی لَہُ دُوْنَ مَشِیْئَتِکَ وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا لَاجَزَاءَ لِقَائِلِہِ اِلَّا رِضَاکَ
ترجمہ:اے اللہ تیرے لئے بہت سی ہمیشہ رہنے والی بہت خوبیاں ہیں جو تیرے وجود تک تیرے ساتھ ہیں اور تیرے لئے ایسی خوبی ہے جس کی تیرے علم کے علاوہ کوئی انتہانہیں اور تیرے لئے ایسی خوبی ہے جس کی انتہاء تیری مشیت کے علاوہ کچھ نہیں اور تیرے لئے ایسی حمد ہے جس کے قائل کی جزا تیری رضا کے علاوہ کچھ نہیں ۔''
(شعب الایمان، باب فی تعد ید نعم اللہ عزوجل وشکرھا ،رقم ۴۳۸۹، ج۴ ،ص ۹۵)
(۱۲۶۲)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ
کہاتو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے سلا م کے جو اب میں
وَ عَلَیْکُمُ السَّلاَ مُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَ کَا ُتہ،
فرمایا، جب وہ شخص بیٹھ گیا تو اس نے کہا،'
' اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا اَنْ یُحْمَدَ وَ یَنْبَغِیْ لَہٗ
ترجمہ:اللہ کے لئے تمام پاکیزہ بر کت والی خوبیاں ہیں جیساکہ