Brailvi Books

جنتی زیور
69 - 676
صرف خراب عادتوں ہی کو نہ دیکھتا رہے بلکہ خراب عادتوں سے نظر پھر اکر اس کی اچھی عادتوں کو بھی دیکھا کرے۔ بہر حال اﷲعزوجل و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے عورتوں کے کچھ حقوق مردوں کے اوپر لازم قرار دے دیئے ہیں۔ لہٰذا ہر مرد پر ضروری ہے کہ نیچے لکھی ہوئی ہدایتوں پر عمل کرتا رہے ورنہ خدا کے دربار میں بہت بڑا گنہگار اور برادری اور سماج کی نظروں میں ذلیل وخوار ہوگا۔

(۱)ہر شوہر کے اوپر اس کی بیوی کا یہ حق فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے کھانے' پہننے اور رہنے اور دوسری ضروریات زندگی کا اپنی حیثیت کے مطابق اور اپنی طاقت بھر انتظام کرے اور ہر وقت اس کا خیال رکھے کہ یہ اﷲکی بندی میرے نکاح کے بندھن میں بندھی ہوئی ہے اور یہ اپنے ماں' باپ' بھائی بہن اور تمام عزیزواقارب سے جدا ہو کر صرف میری ہو کررہ گئی ہے اور میری زندگی کے دکھ سکھ میں برابر کی شریک بن گئی ہے اس لئے اس کی زندگی کی تمام ضروریات کا انتظام کرنا میرا فرض ہے۔یاد رکھو! جو مرد اپنی لاپروائی سے اپنی بیویوں کے نان و نفقہ اور اخراجات زندگی کا انتظام نہیں کرتے وہ بہت بڑے گنہگار' حقوق العباد میں گرفتار اور قہر قہار و عذاب نار کے سزاوار ہیں۔

(۲)عورت کا یہ بھی حق ہے کہ شوہر اس کے بستر کا حق ادا کرتا رہے۔ شریعت میں اس کی کوئی حد مقرر نہیں ہے مگر کم سے کم اس قدر تو ہونا چاہے کہ عورت کی خواہش پوری ہو جایا کرے اور وہ ادھر ادھر تاک جھانک نہ کرے جو مرد شادی کرکے بیویوں سے الگ تھلگ رہتے ہیں اور عورت کے ساتھ اس کے بستر کا حق نہیں ادا کرتے وہ حق العباد یعنی بیوی کے حق میں گرفتار اور بہت بڑے گنہگار ہیں۔ اگر خدا نہ کرے شوہر کسی مجبوری سے اپنی عورت کے اس حق کو نہ ادا کر سکے تو شوہر پر لازم ہے کہ عورت سے اس کے اس حق کو معاف