| جنتی زیور |
کی غلط تدبیروں سے اکثر زچہ و بچہ کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ (۴)پیدائش کے بعد زچہ کے بدن میں تیل کی مالش بہت مفید ہے جیسا کہ پرانا طریقہ ہے کہ ولادت کے بعد چند دنوں تک مالش کرائی جاتی ہے یہ بہت ہی مفید ہے۔ (۵)جس عورت کے دودھ بہت کم ہوتا ہو اگر وہ دودھ آسانی کے ساتھ ہضم کر سکتی ہو تو اس کو روزانہ دودھ پینا چاہے اور مرغ وغیرہ کا مرغن شوربہ اور گاجر کا حلوہ وغیرہ عمدہ غذائیں ہیں اور پانچ ماشہ کلونجی اور پانچ ماشہ تودری سرخ دودھ میں پیس کر پلائیں۔
بچوں کی احتیاط و تدابیر
(۱)پیدائش کے بعد بچے کو پہلے نمک ملے ہوئے نیم گرم پانی سے نہلائیں پھر اس کے بعد سادہ پانی سے غسل دیں تو بچہ پھوڑے پھنسی کی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے نمک ملے ہوئے پانی سے بچوں کو کچھ دنوں تک نہلاتے رہیں تو یہ بچوں کی تندرستی کے لئے بہت مفید ہے اور نہلانے کے بعد بچوں کے بدن میں سرسوں کے تیل کی مالش بچوں کی صحت کے لئے اکسیر ہے۔ (۲)بچوں کو دودھ پلانے سے پہلے روزانہ دو تین مرتبہ ایک انگلی شہد چٹا دیا کریں تو یہ بہت مفید ہے۔ (۳)بچوں کو خواہ جھولے میں جھلائیں یا بچھونے پر سلائیں یا گود میں کھلائیں ہر حال میں بچوں کا سر اونچا رکھیں سر نیچا اور پاؤں اونچے نہ ہونے دیں۔ (۴)پیدائش کے بعد بچوں کو ایسی جگہ نہ رکھیں جہاں روشنی بہت تیز ہوکیونکہ بہت تیز روشنی میں رہنے سے بچے کی نگاہ کمزور ہو جاتی ہے۔ (۵)جب بچے کے مسوڑھے سخت ہو جائیں اور دانت نکلتے معلوم ہوں تو مسوڑھوں پر