(۲)حاملہ عورت کو چاہے کہ چلنے میں پاؤں زور سے زمین پر نہ پڑے اور نہ دوڑ کر چلے اسی طرح اونچی جگہ سے نیچے کو ایک دم جھٹکے کے ساتھ نہ اترے اسی طرح سیڑھی پر دوڑ کر نہ چڑھے بلکہ آہستہ آہستہ چڑھے غرض اس کا خیال رکھے کہ پیٹ نہ زیادہ ہلے اور نہ پیٹ کو جھٹکا لگنے دے نہ بھاری بوجھ اٹھائے نہ کو ئی سخت محنت کا کام کرے نہ غم اور غصہ کرے نہ دست لانے والی دوائیں کھائے نہ زیادہ خوشبو سونگھے۔
(۳)حاملہ عورت کو چلنے پھرنے کی عادت رکھنی چاہے کیونکہ ہر وقت بیٹھے اور لیٹے رہنے سے بادی اور سستی بڑھتی ہے معدہ خراب ہو جاتا ہے اور قبض کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔
(۴)حاملہ عورت کو شوہر کے پاس نہیں سونا چاہے خصوصاً چوتھے مہینے سے پہلے اور ساتویں مہینے کے بعد بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔
(۵) اگر حاملہ عورت کو قے آنے لگے تو پودینہ کی چٹنی یا کاغذی لیموں استعمال کریں۔
(۶)اگر حمل کی حالت میں خون آنے لگے تو ''قُرض کہریا'' کھائیں اور فوراً حکیم یا ڈاکٹر سے علاج کرائیں۔
(۷) اگر حمل گر جانے کی عادت ہوتو اس عورت کو چار مہینے تک پھر ساتویں مہینے کے بعد بہت زیادہ احتیاط رکھنے کی ضرورت ہے گرم غذاؤں سے بالکل پرہیز رکھے اور اچھا یہ ہے کہ لنگوٹ باندھے رہے اور بالکل کوئی بوجھ نہ اٹھائے اور نہ محنت کا کوئی کام کرے اور اگر حمل گرنے کے کچھ آثار ظاہر ہوں مثلاً پانی جاری ہو جائے یا خون گرنے لگے تو فوراً ہی حکیم یا ڈاکٹر کو بلانا چاہے۔
(۸) اگر خدانخواستہ حاملہ کو مٹی کھانے کی عادت ہو تو اس عادت کو چھڑانا ضروری ہے اور اگر مٹی کی بہت ہی حرص ہو تو نشاستہ کی ٹکیاں یا طباشیر کھایا کرے اس سے مٹی کی عادت