(۳۴)جہاں تک ہو سکے خرچ چلانے میں بہت زیادہ کفایت سے کام لو اور روپیہ پیسہ بہت ہی انتظام سے اٹھاؤ بلکہ جتنا خرچ کے لیے تم کو ملے اس میں سے کچھ بچا لیا کرو۔
(۳۵)جو عورتیں بہت سے گھروں میں آیا جایا کرتی ہیں جیسے دھوبن نائن وغیرہ ان کے سامنے ہرگز ہرگز اپنے گھر کے اختلاف اور جھگڑوں کو مت بیان کرو کیونکہ ایسی عورتیں گھروں کی باتیں دس گھروں میں کہتی پھرتی ہیں۔
(۳۶)کوئی مرد تمہارے دروازہ پر آکر تمہارے شوہر کا دوست یا رشتہ دار ہونا ظاہر کرے تو ہرگز اس کو اپنے مکان کے اندر مت بلاؤ نہ اس کا کوئی سامان اپنے گھر میں رکھو نہ اپنا کوئی قیمتی سامان اس کے سپرد کرو ایک غیر آدمی کی طرح کھانا وغیرہ اس کے لیے باہر بھیج دو جب تک تمہارے گھر کا کوئی مرد اس کو پہچان نہ لے ہرگز اس پر بھروسا مت کرو نہ گھر میں آنے دو ایسے لوگوں نے بہت سے گھروں کو لوٹ لیا ہے اسی طرح اگر بے پہچانا ہوا آدمی گھر پر آکر یا سفر میں کوئی کھانے کی چیز دے تو ہرگز مت کھاؤ وہ لاکھ برامانے پروا مت کرو بہت سے سفید پوش ٹھگ نشہ والی یا زہریلی چیز کھلا کر گھر والوں یا مسافروں کو لوٹ لیتے ہیں۔
(۳۷)محبت میں اپنے بچوں کو بلا بھوک کے کھانا مت کھلاؤ نہ اصرار کر کے زیادہ کھلاؤ کہ ان دونوں صورتوں میں بچے بیمار ہوجاتے ہیں جس کی تکلیف تم کو اور بچوں دونوں کو بھگتنی پڑتی ہے۔
(۳۸)بچوں کے سردی گرمی کے کپڑوں کا خاص طور پر دھیان لازمی ہے بچے سردی گرمی لگنے سے بیمار ہو جایا کرتے ہیں۔
(۳۹)بچوں کو ماں باپ بلکہ دادا کا نام بھی یاد کرا دو اور کبھی کبھی پوچھا کرو تاکہ یاد رہے