Brailvi Books

جنتی زیور
561 - 676
(۱۹)جو بات کسی سے کہو یا کسی کا جواب دو تو صاف صاف بولو اور اتنے زور سے بولو کہ سامنے والا اچھی طرح سن لے اور تمہاری باتوں کو سمجھ لے۔

(۲۰)زبان بند کر کے ہاتھ یا سر کے اشاروں سے کچھ کہنا یا کسی بات کا جواب دینا یہ خلاف تہذیب اور حماقت کی بات ہے۔

(۲۱)اگر کسی کے بارے میں کوئی پوشیدہ بات کسی سے کہنی ہو اور وہ شخص اس مجلس میں موجود ہوتوآنکھ یا ہاتھ سے بار بار اس کی طرف اشارہ مت کرو کہ ناحق اس شخص کو طرح طرح کے شبہات ہوں گے۔

(۲۲)کسی کو کوئی چیز دینی ہو تو اپنے ہاتھ سے اس کے ہاتھ میں دو یا برتن میں رکھ کر اس کے سامنے پیش کرو دور سے پھینک کر کوئی چیز کسی کو مت دیا کرو شاید اس کے ہاتھ میں نہ پہنچ سکے اور زمین پر گر کر ٹوٹ پھوٹ جائے یا خراب ہو جائے۔

(۲۳)اگر کسی کو پنکھا جھلو تو اس کا خیال رکھو کہ اس کے سر یا چہرہ یا بدن کے کسی حصہ میں پنکھا لگنے نہ پائے اور پنکھے کو اتنے زور سے بھی نہ جھلا کرو کہ تم خود یا دوسرے پریشان ہوجائیں۔

(۲۴)میلے کپڑے جو دھوبی کے یہاں جانے والے ہوں گھر میں ادھر ادھر پڑا یا بکھرا ہوا زمین پر نہ رہنے دو بلکہ مکان کے کسی کونے میں لکڑی کا ایک معمولی بکس رکھ لو اور سب میلے کپڑوں کو اسی میں جمع کرتے رہو۔

(۲۵)اپنے اونی کپڑوں کو کبھی کبھی دھوپ میں سکھا لیا کرو اور کتابوں کو بھی تاکہ کیڑے مکوڑے کپڑوں اور کتابوں کو کاٹ کر خراب نہ کر سکیں۔

(۲۶)جہاں کوئی آدمی بیٹھا ہو وہاں گردو غبار والی چیزوں کو نہ جھاڑو۔