ظاہر ہے کہ کوئی شخص بھی اپنے لیے یہ پسند نہیں کریگا کہ وہ تکلیفوں میں مبتلا ہو اور دکھ اٹھائے تو پھر فرمانِ رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے مطابق ہر شخص پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے کسی قول و فعل سے کسی کو ایذا اور تکلیف نہ پہنچائے اس لیے مندرج ذیل باتوں کا خاص طور پر ہر مسلمان کو خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔
(۱)کسی کے گھر مہمان جاؤ یا بیمار پرسی کے لیے جانا ہو تو اس قدر زیادہ دنوں تک یا اتنی دیر تک نہ ٹھہرو کہ گھر والا تنگ ہو جائے اور تکلیف میں پڑ جائے۔
(۲)اگر کسی کی ملاقات کے لیے جاؤ تو وہاں اتنی دیر تک مت بیٹھو یا اس سے اتنی زیادہ باتیں نہ کرو کہ وہ اکتا جائے یا اس کے کام میں حرج ہونے لگے کیونکہ اس سے یقیناً اس کو تکلیف ہوگی۔
(۳)راستوں میں چارپائی یا کرسی یا کوئی دوسرا سامان برتن یا اینٹ پتھر وغیرہ مت ڈالو کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ روزانہ کی عادت کے مطابق بے کھٹکے تیزی کے ساتھ چلے آتے ہیں اور ان چیزوں سے ٹھوکر کھا کر الجھ کر گر پڑتے ہیں بلکہ خود ان چیزوں کو راستوں میں ڈالنے ولا بھی رات کے اندھیرے میں ٹھوکر کھا کر گرتا ہے اور چوٹ کھا جاتا ہے۔
(۴)کسی کے گھر جاؤ تو جہاں تک ہوسکے ہرگز ہرگز اس سے کسی چیز کی فرمائش نہ کرو