| جنتی زیور |
کو آدمی اپنے ہاتھ کے ہنر کی کمائی سے کما کر کھائے اور اﷲعزوجل کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کے ہنر کی کمائی کھاتے تھے یعنی لوہے کی زرہیں بنایا کرتے تھے ۔
(صحیح البخاری،کتاب البیوع،باب کسب الرجل وعملہ بیدہ،رقم ۲۰۷۲،ج۲،ص۱۱)
اس لیے ماں بہنو! خبردار، خبردار کبھی ہر گز ہر گز کسی دستکاری اور اپنے ہاتھ کے ہنر کو حقیر و ذلیل مت سمجھو، اور اگر کوئی نادان اس کو حقیر سمجھے اور اس کا مذاق اڑائے تو ہر گز اس کی پروا مت کرو، اور ضرور کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ لو۔ کہ یہ خدا کے پیارے نبیوں کی صفت ہے اور حلال کمائی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ ہمارے رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم كا فرمان ہے اس لئے اس پر جی جان سے عمل کرو۔
بعض نبیوں کی دستکاری
حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے کھیتی کی حضرت ادریس علیہ السلام نے لکھنے اور درزی کا کام کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے لکڑی تراش کر کشتی بنائی ہے جو کہ بڑھئی کا پیشہ ہے حضرت ذوالقرنین جو بہت بڑے بادشاہ تھے اور بعض مفسّرین نے ان کو نبی بھی کہا ہے وہ زنبیل یعنی ڈلیا اور ٹوکری بنایا کرتے تھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کھیتی کرتے تھے۔ اور آپ نے اپنے ہاتھوں سے خانہ کعبہ کی تعمیر کی جو معماری کا کام ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے تیر بنایا کرتے تھے حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کی اولاد بکریاں چَراتے تھے اور بکریاں پال پال کر ان کو بیچا کرتے تھے حضرت ایوب علیہ السلام بھی اونٹ اور بکریاں چراتے تھے حضرت داؤد علیہ السلام لوہے کی زرہیں بنایا کرتے تھے جو لوہار کا کام ہے حضرت سلیمان علیہ السلام زنبیل بنایا کرتے تھے حضرت زکریا علیہ السلام بڑھئی کا کام کرتے تھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک دوکاندار کے ہاں کپڑا رنگتے تھے اور خود ہمارے رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اور تمام نبیوں نے بکریاں چرائی ہیں۔