Brailvi Books

جنتی زیور
520 - 676
(۲۹)حضرت ام الفضل رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ ہمارے رسول اکرم صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی چچی اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی والدہ اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے چچا حضرت عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بیوی ہیں یہ حضرت عباس سے پہلے مسلمان ہوگئی تھیں اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم بھی ان پر بے حد مہربان تھے اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کو دین و دنیا کی بڑی بڑی بشارتیں دی تھیں یہ ہجرت کے لئے بے قرار تھیں مگر یہ ہجرت کا سامان نہ ہونے سے لاچار تھیں چنانچہ ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ ہجرت کا سامان نہ ہونے کی وجہ سے ہجرت نہیں کرسکتی ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں۔
(۳۰)حضرت ربیع بنت معوذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ انصاریہ صحابیہ ہیں اور جنگ بدر میں ابو جہل کو قتل کرنے والے صحابی حضرت معوذ بن عفرا رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بیٹی ہیں انہوں نے بیعت الرضوان میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے دست مبارک پربیعت کی تھی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم كا ان پر بڑا خاص کرم تھا ان کی شادی کے دن حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ان کے مکان پر تشریف لے گئے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں کھجور کا ایک خوشہ نذر کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس کو قبول فرما کر کچھ سونا یا چاندی ان کو عطا فرمایا اور ارشاد فرمایاکہ تم اس کے زیور بنوا لو امام واقدی نے ان کا ایک عجیب واقعہ نقل فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک عورت اسماء بنت مخرمہ مدینہ منورہ میں عطر بیچا کرتی تھی وہ عطر لے کر حضرت ربیع بنت معوذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے پاس آئی اور کہا کہ تم اس شخص کی بیٹی ہو جس نے اپنے سردار یعنی ابوجہل کو قتل کر دیا؟ تو انہوں نے تڑپ کر جواب دیا میں اس شخص کی بیٹی ہوں
Flag Counter