| جنتی زیور |
حکومت میں بحری بیڑہ تیار ہوا اور مجاہدین کشتیوں میں سوار ہونے لگے تو حضرت بی بی ام حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہا بھی اپنے شوہر حضرت عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان مجاہدین کی جماعت میں شامل ہو کر جہاد کے لئے روانہ ہوگئیں سمندر سے پار ہوجانے کے بعد یہ اونٹ پر سوار ہونے لگیں تو اونٹ پر سے گر پڑیں اور اونٹ کے پاؤں سے کچل کر ان کی روح پرواز کر گئی اس طرح یہ شہادت کے شرف سے سرفراز ہوگئیں ۔
(صحیح البخاری،کتاب الجہاد،باب غزوالمرأۃ فی البحر،رقم۲۸۷۷،۲۸۷۸،ج۲،ص۲۷۵)
تبصرہ:۔مسلمان بیبیو! حضرت بی بی ام حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے اس واقعہ سے جہاد کا شوق اور اسلام پر قربان ہونے کا جذبہ سیکھو ان دونوں بوڑھے میاں بیوی کو بڑھاپے کے باوجود جہاد کا کس قدر شوق تھا؟ اور شہادت کی کتنی زیادہ تمنا تھی اﷲاکبر! اﷲاکبر۔
(۲۸)حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
یہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بہن ہیں یہ اور ان کے شوہر حضرت سعید بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہما شروع ہی میں مسلمان ہوگئے تھے مگر یہ دونوں حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ڈر سے اپنا اسلام پوشیدہ رکھتے تھے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو ان دونوں کے مسلمان ہونے کی خبر ملی تو غصہ میں آگ بگولا ہو کر بہن کے گھر پہنچے کو اڑ بند تھے مگر اندر سے قرآن پڑھنے کی آواز آ رہی تھی دروازہ کھٹکھٹایا تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی آواز سن کر سب گھر والے ادھر ادھر چھپ گئے بہن نے دروازہ کھولا تو حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ چلا کر بولے کہ اے اپنی جان کی دشمن! کیا تو نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے؟ پھر اپنے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر جھپٹے اور ان کی داڑھی پکڑ کر زمین پر پچھاڑ دیا اور مارنے لگے ان کی بہن حضرت فاطمہ بنت خطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اپنے شوہر کو بچانے کے لئے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو پکڑنے