Brailvi Books

جنتی زیور
513 - 676
نہیں'' میں نے کہا کہ حضرت بی بی حلیمہ کی قبر کو دیکھو کہ کیسی ہری ہری گھاس سے یہ قبر سر سبز و شاداب ہورہی ہے لوگوں نے کہا کہ ''جی ہاں بے شک'' پھر میں نے کہا کہ کیا اس کی کوئی وجہ تم لوگوں کی سمجھ میں آرہی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جی نہیں آپ ہی بتایئے تو میں نے کہہ دیا کہ اس وقت میرے دل میں یہ بات آئی ہے کہ انہوں نے حضور رحمۃ للعالمین صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم كو اپنا دودھ پلا پلا کر سیراب کیا تھا تو رب العلمین نے اپنی رحمت کے پانیوں سے ان کی قبر پر ہری ہری گھاس اگا کر ان کی قبر کو سرسبز و شاداب کر دیا ہے میری یہ تقریر سن کر تمام حاضرین پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ سب لوگ چیخ مار مار کر رونے لگے اور میں خود بھی روتے روتے نڈھال ہوگیا پھر میرے محب مخلص سیٹھ الحاج عثمان غنی چھیپہ رنگ والے احمد آبادی نے عطر کی ایک بڑی سی شیشی جس میں سے دو دو تین تین قطرہ وہ ہر قبر پر عطر ڈالتے تھے ایک دم پوری شیشی انہوں نے حضرت بی بی حلیمہ کی قبر پر انڈیل دی اور روتے ہوئے کہا کہ اے دادی حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ! خدا کی قسم اگر آپ کی قبر احمد آباد میں ہوتی تو میں آپ کی قبر مبارک کو عطر سے دھودیتا پھر بڑی دیر کے بعد ہمارے دلوں کو سکون ہوا اور میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو لگ بھگ پچاس آدمی میرے پیچھے کھڑے تھے اور سب کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں (یااﷲعزوجل! پھر دوبارہ یہ موقع نصیب فرما آمین یارب العٰلمین)
(۲۵)حضرت ام ایمن رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    جب ہمارے پیارے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم حضرت بی بی حلیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے گھر سے مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور اپنی والدہ محترمہ کے پاس رہنے لگے تو حضرت ام ایمن رضی اﷲ تعالیٰ عنہا جو آپ کے والد ماجد کی باندی تھیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خاطر داری و خدمت گزاری میں دن رات جی جان سے مصروف رہنے لگیں یہی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ
Flag Counter