Brailvi Books

جنتی زیور
50 - 676
جائے گی۔''
 (سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح ،۴۴۔باب حق الزوج علی المرأۃ ، رقم ۱۸۵۴،ج۲،ص۴۱۲)
اور یہ بھی فرمایا کہ ''جب کوئی مرد اپنی بیوی کو کسی کام کے لئے بلائے تو وہ عورت اگر چہ چولھے کے پاس بیٹھی ہو اس کو لازم ہے کہ وہ اٹھ کر شوہر کے پاس چلی آئے۔''
 (جامع الترمذی ، کتاب الرضاع، باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ (ت:۱۰) رقم ۱۶۶۳،ج۲،ص۳۸۶)
    حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورت چاہے کتنے بھی ضروری کام میں مشغول ہو مگر شوہر کے بلانے پر سب کاموں کو چھوڑ کر شوہر کی خدمت میں حاضر ہو جائے۔ 

    اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے عورتوں کو یہ بھی حکم دیا کہ ''اگر شوہر اپنی عورت کو یہ حکم دے کہ پیلے رنگ کے پہاڑ کو کالے رنگ کا بنادے اور کالے رنگ کے پہاڑ کو سفید بنادے تو عورت کو اپنے شوہر کا یہ حکم بھی بجا لانا چاہے۔''
 (سنن ابن ماجہ ، کتاب النکاح ، ۴/۴۔باب حق الزوج علی المرأۃ ، رقم ۱۸۵۲،ج۲،ص۴۱۱)
    حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مشکل سے مشکل اور دشوار سے دشوار کام کا بھی اگر شوہر حکم دے تو جب بھی عورت کو شوہر کی نافرمانی نہیں کرنی چاہے بلکہ اس کے ہر حکم کی فرماں برداری کے لئے اپنی طاقت بھر کمر بستہ رہنا چاہے اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا یہ بھی فرمان ہے کہ ''شوہر بیوی کو اپنے بچھونے پر بلائے اور عورت آنے سے انکار کردے اور اس کا شوہر اس بات سے ناراض ہو کر سورہے تو رات بھر خدا کے فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔''
 (صحیح مسلم، کتاب النکاح ، باب تحریم امتناعھا من فراش زوجھا، رقم ۱۴۳۶،ص۷۵۳)
    پیاری بہنو! ان حدیثوں سے سبق ملتا ہے کہ شوہر کا بہت بڑا حق ہے اور ہر عورت
Flag Counter