| جنتی زیور |
انہوں نے حضور کی خوشی کے لئے اپنی باری کا دن کس خوش دلی کے ساتھ اپنی سوت حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو دے دیا پھر ان کی فیاضی اور سخاوت بھی دیکھو درہموں سے بھرے ہوئے تھیلے کو چند منٹوں میں فقراء و مساکین کے درمیان تقسیم کر دیا اور اپنے لئے ایک درہم بھی نہ رکھا۔
ماں بہنو!خدا کے لئے ان امت کی ماؤں کے طرز عمل سے سبق سیکھو اور نیک بیبیوں کی فہرست میں اپنا نام لکھاؤ حسد اور کنجوسی نہ کرو اور کام چور نہ بنو۔(۳)حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
یہ امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی ہیں ان کی ماں کا نام ''ام رومان'' ہے ان کا نکاح حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے قبل ہجرت مکہ مکرمہ میں ہوا تھا لیکن کاشانہ نبوت میں یہ مدینہ منورہ کے اندر شوال ۲ھ میں آئیں یہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی محبوبہ اور بہت ہی چہیتی بیوی ہیں۔
(شرح العلامۃ الزرقانی،حضرت عائشۃ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا،ج۴،ص۳۸۱۔۳۸۲،۳۸۵)
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا ان کے بارے میں ارشاد ہے کہ کسی بیوی کے لحاف میں میرے اوپر وحی نہیں اتری مگر حضرت عائشہ جب میرے ساتھ نبوت کے بستر پر سوتی رہتی ہیں تو اس حالت میں بھی مجھ پر وحی اترتی رہتی ہے۔
(صحیح البخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،باب فضل عائشۃ رضی اللہ عنہا ،رقم ۳۷۷۵،ج۲،ص۵۵۲)
فقہ و حدیث کے علوم میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بیبیوں کے درمیان ان کا درجہ بہت اونچا ہے بڑے بڑے صحابہ علیھم الرضوان ان سے مسائل پوچھا کرتے تھے عبادت میں ان کا یہ عالم تھا کہ نماز تہجد کی بے حد پابند تھیں اور نفلی روزے بھی بہت زیادہ رکھتی تھیں سخاوت اور صدقات و خیرات کے معاملہ میں بھی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی سب بیبیوں میں خاص طور پر بہت ممتاز تھیں ام درہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ کہیں سے