''یعنی تم لوگ بے شوہر والی عورتوں کا نکاح کر دو اور اپنے نیک چلن غلاموں اور لونڈیوں کا بھی نکاح کر دو۔'' (پ18،النور:32)
حدیث شریف میں ہے کہ توراۃ شریف میں لکھا ہے کہ ----- ''جس شخص کی لڑکی بارہ برس کی عمر کو پہنچ گئی اور اس نے اس لڑکی کا نکاح نہیں کیا اور وہ لڑکی بدکاری کے گناہ میں پڑگئی تو اس کا گناہ لڑکی والے کے سرپر بھی ہوگا۔''
(مشکوۃ المصابیح ، کتاب النکاح، باب الولیّ فی النکاح الخ ، رقم ۳۱۳۹،ج۲، ص۲۱۲)
دوسری حدیث میں ہے کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ۔
''اﷲ تعالیٰ نے تین شخصوں کی امداد اپنے ذمہ کرم پر لی ہے۔ (۱)وہ غلام جو اپنے آقا سے آزاد ہونے کے لئے کسی قدر رقم ادا کرنے کا عہد کرے اور اپنے عہد کو پورا کرنے کی نیت رکھتا ہو۔ (۲) خدا کی راہ میں جہاد کرنے والا (۳) وہ نکاح کرنے والا یا نکاح کرنے والی جو نکاح کے ذریعہ حرام کاری سے بچنا چاہتا ہو۔''
( الجامع الترمذی، کتاب فضائل الجہاد ، باب ماجاء فی المجاہد والناکح الخ، رقم ۱۶۶۱، ج۳،ص۲۴۷)
عورت' جب تک اس کی شادی نہیں ہوتی وہ اپنے ماں باپ کی بیٹی کہلاتی ہے مگر شادی ہو جانے کے بعد عورت اپنے شوہر کی بیوی بن جاتی ہے اور اب اس کے فرائض اور