بہت بڑا اجر و ثواب ملے گا اور اگر تم اس کا جواب دینا چاہو تو تم بس اتنا ہی کہہ سکتے ہو جتنا اس نے تم کو کہا ہے اگر اس سے زیادہ کہو گے تو گنہ گار ہو جاؤ گے۔
(۴)دوغلی بات ہر گز ہرگز مت کہو کہ اس کے منہ پر اس کی سی بات کرو اور دوسرے کے منہ پر اس کی سی بات کرو کہ یہ دونوں جہان میں رسوائی کا سامان ہے۔
(۵)نہ کسی کی چغلی کرو نہ کسی کی چغلی سنو کہ یہ بڑے بڑے فسادوں کی جڑ اور گناہ کبیرہ ہے۔
(۶)جھوٹ بھی ہر گز نہ بولو کہ یہ بہت ہی سخت گناہ کبیرہ ہے۔
(۷)خوشامد کے طور پر کسی کے منہ پر اس کی تعریف نہ کرو۔ پیٹھ کے پیچھے بھی حد سے زیادہ کسی کی تعریف نہ کرو۔
(۸)نہ کسی کی غیبت کرو نہ کسی کی غیبت سنو غیبت گناہ کبیرہ ہے اور غیبت یہ ہے کہ کسی کی پیٹھ کے پیچھے اس کی ایسی کوئی بات کہنا کہ اگر وہ سنے تو اس کو رنج ہو اگر چہ وہ بات سچی ہی ہو اور اگر وہ بات ہی غلط ہو تو اس کو کہنا یہ بہتان ہے اس میں غیبت سے بھی زیادہ گناہ ہے۔