(صحیح البخاری،کتاب الدعوات،باب مایقول اذانام،رقم۶۳۱۲،ج۴،ص۱۹۲)
اتنا لباس پہننا ضروری ہے کہ جس سے ستر عورت ہو جائے عورتیں بہت باریک اور اتنا چست لباس ہرگز نہ پہنیں کہ جس سے بدن کے اعضاء ظاہر ہوں کہ عورتوں کو ایسا کپڑا پہننا حرام ہے مرد بھی پاجامہ اور تہبند ایسے باریک اور ہلکے کپڑے کا نہ پہنیں کہ جس سے بدن کی رنگت جھلکے اور ستر پوشی نہ ہو کہ مردوں کو بھی ایسا تہبند اور پاجامہ پہننا جائز نہیں۔
مسئلہ:۔مردوں کو دھوتی نہیں پہننی چاہے کہ دھوتی پہننا ہندوؤں کا لباس ہے اور اس سے ستر پوشی بھی نہیں ہوتی کہ چلنے اور اٹھنے بیٹھنے میں اکثر ران کا پچھلا حصہ کھل جاتا ہے اسی طرح ہر وہ لباس جو یہود و نصاری یا دوسرے کفار کا قومی یا مذہبی لباس ہو مسلمانوں کو ہرگز نہیں پہننا چاہے۔
اور ایسا تنگ لباس بھی ناجائز ہے کہ جس سے رکوع و سجود نہ ہو سکے نیکر اور جانگیا