| جنتی زیور |
شریعت کا یہ مسئلہ ہے کہ بچہ جب سات برس کا ہو جائے تو اس کو نماز سکھا کر نماز پڑھنے کا حکم دیں۔ اور جب بچے کی عمر دس برس کی ہو جائے تو مار مار کر اس سے نماز پڑھوائیں۔
(شعب الایمان للبیہقی،باب فی حقوق الاولاد والاھلین،رقم ۸۶۵۰،ج۶،ص۳۹۸)
مسئلہ:۔نماز خالص بدنی عبادت ہے۔ اس میں نیابت جاری نہیں ہو سکتی۔ یعنی ایک کی طرف سے دوسرا نہیں پڑھ سکتا۔ نہ یہ ہو سکتا ہے کہ زندگی میں نماز کے بدلے کچھ مال بطور فدیہ ادا کرکے نماز سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ ہاں البتہ اگر کسی پر کچھ نمازیں رہ گئی ہیں اور انتقال کر گیا اور وصیت کر گیا کہ اس کی نمازوں کا فدیہ ادا کیا جائے تو امید ہے کہ ان شاء اﷲ یہ قبول ہو۔ اور یہ وصیت بھی وارثوں کو اس کی طرف سے پوری کرنی چاہیے کہ قبول و عفو کی امید ہے۔
(درمختاروردالمحتار،کتاب الصلاۃ،مطلب فیما یعیر الکافر بہ مسلمامن الافعال،ج۲،ص۱۲۔۱۳)
شرائط نماز :۔اس سے پہلے کہ ہم نماز کا طریقہ بتائیں ان چھ چیزوں کو بتا دینا ضروری ہے جن کے بغیر نماز شروع نہیں ہوسکتی۔ ان چھ چیزوں کو ''شرائط نماز'' کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں۔
پہلی پاکی۔ دوسری شرمگاہ کو چھپانا۔ تیسری نماز کا وقت۔ چوتھی قبلہ کی طرف منہ کرنا۔ پانچویں نیت۔ چھٹی تکبیر تحریمہ۔(الدرالمختاروردالمحتار، کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ،مطلب فی استقبال القبلۃ،ج۲،ص۹۰۔۱۳۳)
پہلی شرط)یعنی ''پاکی'' کا مطلب ہے کہ نمازی کا بدن،اسکے کپڑے، نماز کی جگہ سب پاک ہوں اور کوئی نجاست جیسے پیشاب، پاخانہ، خون، لید، گوبر، مرغی کی بیٹ وغیرہ نہ لگی ہو۔ اور نمازی بے غسل اور بے وضو بھی نہ ہو۔