اور بڑے بڑے فساد اور بربادی برپا کریں گے۔ پھر خدا کے قہر سے ہلاک ہوجائینگے۔
(سنن ابن ماجہ،کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسٰی ابن مریم ۔۔۔الخ، رقم۴۰۷۹،ج۴،ص۴۰۹/صحیح مسلم ، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال وصفتہ وما معہ، رقم ۲۱۳۷،ص۱۵۶۸)
(جامع الترمذی، کتاب الفتن، باب ماجاء فی طلوع الشمس من مغربھا، رقم۲۱۹۳، ج۴،ص۷۸)
قرآن کے حروف اڑ جائیں گے۔
(سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن،باب ذھاب القرآن والعلم،رقم ۴۰۴۹،ج۴،ص۳۸۴)
یہاں تک کہ روئے زمین کے تمام مسلمان مرجائیں گے اور تمام دنیا کافروں سے بھر جائے گی۔
(صحیح مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب ذکر الدجال وصفتہ وما معہ،رقم ۲۱۳۷،ص۱۵۶۸)
اس طرح جب قیامت کی تمام نشانیاں ظاہر ہو چکیں گی تو اچانک خدا کے حکم سے حضرت اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے جس سے زمین آسمان ٹوٹ پھوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔
(صحیح مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب فی خروج الدجال ومکثہ فی الارض...الخ،رقم ۱۱۶،ص۱۵۷۲)
چھوٹے بڑے سب پہاڑ چور چور ہو کر بکھر جائیں گے۔ تمام دریاؤں میں طوفان اٹھ کھڑا