Brailvi Books

جنتی زیور
181 - 676
اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی نافرمانی اﷲتعالیٰ کی نافرمانی ہے۔
        (المعجم الاوسط ، من اسمہ ابراہیم ، رقم ۲۴۰۱،ج۲،ص۳۲)
تمام جہان کو اﷲتعالیٰ نے حضور کے زیر تصرف کردیا ہے۔ اورآسمان وزمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس ہاتھوں میں دے کر آپ کو اپنی تمام نعمتوں اور عطاؤں کا قاسم بنادیا ہے۔
 (صحیح مسلم ،کتاب الفضائل ، باب اثبات حوض نبینا صلی اللہ علیہ وسلم وصفاتہ ، رقم ۲۲۹۶،ص۱۲۵۸/ المواہب اللدنیۃ ، الفصل الثانی ، اعطی مفاتیح الخزائن ، ج۲،ص۶۳۹)
چنانچہ ہر قسم کی عطائیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں۔
 (صحیح البخاری، کتاب العلم ، باب من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین ، رقم ۷۱،ج۱،ص۴۲)
سبحان اﷲ ! ؎
رب ہے معطی' یہ ہیں قاسم

رزق اس کا ہے کھلاتے یہ ہیں
    عقیدہ :۱۹حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے کسی قول وفعل و عمل و حالت کو جو حقارت کی نظر سے دیکھے یا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی شان میں کوئی ادنیٰ سی گستاخی یا توہین و بے ادبی کرے یا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو جھٹلائے یا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے کلام میں شک کرے۔
(حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین ، پ ۱۸ النور:۶۳،ج۴،ص۱۴۲۱/الشفاء بتعریف حقوق المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، الجزء الثانی ، فصل فی بیان ماھو من المقالات کفر، ص۲۴۶)
یا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم میں کوئی عیب نکالے۔ یا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی کسی سنت کو برا سمجھے یا مذاق اڑائے وہ اسلام سے خارج اور کافر ہے۔
(البحرالرائق ، کتاب السیر ، با ب احکام المرتدین، ج۵،ص۲۰۳۔۲۰۴/ الفتاوی الھندیہ ، کتاب السیر ، الباب التاسع فی احکام المرتدین مطلب موجبات الکفرانواع ، ج۲،ص۲۶۳۔۲۶۴)
Flag Counter