لہٰذا ان علمائے کرام نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اس رات میں حلوا پکایا۔ پھر رفتہ رفتہ عوام میں بھی اس کا چرچا اور رواج ہوگیا۔ چنانچہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب قبلہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ کے ملفوظات میں ہے کہ ہندوستان میں شب برات کو روٹی اور حلوا پر فاتحہ دلانے کا دستور ہے۔ اور سمر قند و بخارا میں ''قتلما'' پر جو ایک میٹھا کھانا ہے۔
الغرض شب برات کا حلوا ہو یا عید کی سویاں' محرم کا کھچڑا ہو یا ملیدہ' محض ایک رسم و رواج کے طریقہ پر لوگ پکاتے کھاتے اورکھلاتے ہیں۔ کوئی بھی یہ عقیدہ نہیں رکھتا کہ یہ فرض یا سنت ہیں۔ اس لئے اس کو ناجائز کہنا درست نہیں۔ یاد رکھو کسی حلال کو حرام ٹھہرانااﷲ پر جھوٹی تہمت لگانا ہے جو ایک بدترین گناہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔