Brailvi Books

جنتی زیور
141 - 676
اتنی مردود عادتیں ہیں کہ اس سے آدمی ہر ایک کی نظر میں قابل نفرت ہو جاتا ہے۔

گناہوں کا بیان

    گناہوں کی دو قسمیں ہیں۔ گناہ صغیرہ (چھوٹے چھوٹے گناہ) گناہ کبیرہ (بڑے بڑے گناہ)گناہ صغیرہ نیکیوں اور عبادتوں کی برکت سے معاف ہو جاتے ہیں۔ لیکن گناہ کبیرہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک کہ آدمی سچی توبہ کر کے اہل حقوق سے ان کے حقوق کو معاف نہ کرالے۔

گناہ کبیرہ کس کو کہتے ہیں ؟:۔گناہ کبیرہ اس گناہ کو کہتے ہیں جس سے بچنے پر خداوند قدوس نے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے۔
  (کتاب الکبائر،ص۷)
    اور بعض علمائے کرام نے فرمایا کہ ہر وہ گناہ جس کے کرنے والے پراﷲعزوجل و رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے وعید سنائی' یا لعنت فرمائی۔ یا عذاب و غضب کا ذکر فرمایا وہ گناہ کبیرہ ہے۔
    (کتاب الکبائر،ص۸)
گناہ کبیرہ کون کون ہیں؟:۔گناہ کبیرہ کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر ان میں سے چند مشہور کبیرہ گناہوں کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں جو یہ ہیں۔

(۱)شرک کرنا۔(۲)جادو کرنا۔(۳)خون ناحق کرنا۔(۴)سود کھانا۔ (۵)یتیم کا مال کھانا۔(۶)جہاد کفار سے بھاگ جانا۔ (۷)پاک دامن مومن مردوں اور عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔ (۸)زنا کرنا۔(۹) اغلام بازی کرنا۔ (۱۰)چوری کرنا۔(۱۱)شراب پینا۔(۱۲)جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ (۱۳)ظلم کرنا۔ (۱۴)ڈاکہ ڈالنا۔(۱۵)ماں باپ کو تکلیف دینا ۔ (۱۶)حیض و نفاس کی حالت میں بیوی سے صحبت کرنا۔(۱۷)جوا کھیلنا۔ (۱۸)صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنا۔
Flag Counter