اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مومن کے میزان عمل میں سب سے زیادہ وزن دار نیکی اچھے اخلاق ہوں گے
(جامع الترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، باب ماجاء فی حسن الخلق ، رقم ۲۰۱۰، ج۳، ص۴۰۴)
ہر مرد و عورت کو لازم ہے کہ اپنے گھر والوں اور پڑوسیوں' بلکہ ہر ملنے جلنے والے کے ساتھ خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آئے۔ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے لوگوں سے ملنا جلنا بہت بڑی سعادت اور خوش نصیبی کی عادت اور ثواب کا کام ہے جو لوگ ہر وقت گال پھلائے' منہ لٹکائے' اور پیشانی پر بل ڈالے ہوئے تیوری چڑھائے ہوئے ہر آدمی سے بد اخلاقی کے ساتھ پیش آتے ہیں وہ بہت ہی منحوس و مغرور ہیں اور وہ دنیا و آخرت کی سعادتوں اور خوش نصیبیوں سے محروم ہیں۔ نہ ان کو کبھی خوشی نصیب ہوتی ہے۔ نہ ان سے مل کر دوسروں کا دل خوش ہوتا ہے بلکہ ایسے مردوں اور عورتوں کے چہروں پر ہر وقت ایسی رعونت اور نحوست برستی رہتی ہے کہ ان کا چہرہ دیکھ کے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ یہ ابھی ابھی سو کر اٹھے ہیں اور ابھی منہ بھی نہیں دھویا ہے۔