Brailvi Books

جنتی زیور
133 - 676
    ''یعنی غصہ پی جانے والوں' اور لوگوں کو معاف کردینے والوں( اور اس قسم کے اچھے اچھے کام کرنے والوں) کو اﷲتعالیٰ اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔''(پ4،آل عمران :134)

    اﷲاکبر! غصہ کو ضبط اور برداشت کرنے والوں کو خداوند قدوس اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ سبحان اﷲعزوجل! کوئی بندہ یا بندی اﷲتعالیٰ کا محبوب اور پیارا بن جائے اس سے بڑھ کر اور کون سی دوسری نعمت ہوسکتی ہے؟

    لہٰذا پیاری بہنو اور بھائیو! تم اپنی یہ عادت بنا لو کہ کوئی کتنی ہی سخت بات تم کو کہہ دے مگر تم اس کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرلو اور غصہ آجائے تو غصہ کو پی جاؤ اور ہرگز ہرگز اپنے غصہ کا اظہار نہ کرو۔ نہ کوئی انتقام لو۔ اگر تم نے یہ عادت ڈالی تو پھر یقین کر لو کہ تم خدا اور اس کی تمام مخلوق کے پیارے بن جاؤ گے اور خداوند کریم بڑے بڑے درجات و مراتب کا تم کو تاج پہنا کر نیک بختی اور خوش نصیبی کا تاجدار بنادے گا۔

(۱)تواضع و انکساری:۔اپنے کو دوسروں سے چھوٹا اور کمتر سمجھ کر دوسروں کی تعظیم و تکریم کے ساتھ خاطر ومدارت کرنا اس عادت کو تواضع اور انکساری کہتے ہیں۔ یہ نیک عادت درحقیقت جو ہر نایاب ہے کہ اﷲتعالیٰ جس کو اس عادت کی توفیق عطا فرما دیتا ہے گویا اس کو خیر کثیر کا خزانہ عطا فرما دیتا ہے جو شخص ہر ایک کو اپنے سے بہتر اور اپنے کو سب سے کمتر سمجھے گا وہ ہمیشہ گھمنڈ اور تکبر کی شیطانی خصلت سے بچا رہے گا اور اﷲتعالیٰ اس کو دونوں جہان میں سر بلندی اور عظمت کا بادشاہ بلکہ شہنشاہ بنادے گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ یعنی جو شخص اﷲ کی رضاجوئی کے لیے تواضع اور انکساری کی خصلت اختیار کریگا اﷲتعالیٰ اس کو سر بلندی عطا فرمائے گا۔
(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب وغیرہ، الترغیب فی التواضع والترہیب من الکبر
Flag Counter