| جنّت کی دوچابیاں |
میں ہی عافیت ہے کیونکہ کلامِ کثیر کی صورت میں زبان کے نافرمانی میں مبتلاء ہونے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں جیسا کہ حضرتِ سیدنا ابوہریرہرضي الله عنه سے روایت ہے کہ سرورِ کونین صلي الله عليه وسلمنے ارشاد فرمایا: ''جس کا کلام زیادہ ہوتاہے اس کی خطائیں بھی زیادہ ہوتی ہیں ۔''(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۵۱،ج۳،ص۳۴۵)
خاموشی کے فضائل
خاموش رہنے کی عادت اپنانے (یعنی قفل ِ مدینہ لگانے)کی وجہ سے گناہوں سے حفاظت کے ساتھ ہمیں درجِ ذیل برکتیں بھی حاصل ہوں گی ،
٭حضرتِ سیدناابودَرْدَاء رضي الله عنه کی ملاقات رسول اللہ صلي الله عليه وسلم سے ہوئی تو آپ صلي الله علي وسلم نے فرمایا : ''اے ابودَرْدَاء! کیا میں تجھے دو ایسے عمل نہ بتاؤں جنکی مشقت تو خفیف ہے مگر ان کا اجر عظیم ہے اللہل کے ساتھ ان جیسے کسی عمل کے ساتھ ملاقات نہیں کی گئی وہ دو عمل طویل خاموشی اور حسنِ اخلاق ہیں۔''
(مجمع الزوائد، باب ماجاء فی حسن الخلق، رقم :۱۲۶۷۲ ، ج۸ ، ص ۴۸)
٭ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضي الله عنهسے مروی ہے کہ نبی اکرم صلي الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:''جو اللہ اورآخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے ۔''
(ترمذی ، کتاب البر والصلۃ ، رقم: ۱۹۷۴، ج۳،ص۳۸۹)
٭حضرتِ سیدنا ابن عمررضي الله عنه سے مروی ہے کہ نبیوں کے سرورانے ارشاد فرمایا:''جو خاموش رہا اس نے نجات پائی۔ ''
(ترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ ، رقم : ۲۵۰۹،ج۴،ص۲۲۵)
٭ سرورِ عالم انے ارشاد فرمایا:''جسے سلامتی عزیز ہو اسے چاہيے کہ