Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
104 - 152
''اذان کی انتہاء تک موذن کی مغفر ت کردی جاتی ہے اور اس کے لئے ہر خشک و ترچیز استغفار کرتی ہے ۔''(مسند احمد ، مسند عبداللہ بن عمر بن خطا ب ، رقم ۶۲۱۰، ج ۲، ص ۵۰۰)

    (۲) تاجدارِ مدینہ صلی اللہ عليہ وسلم  کا فرمانِ خوشبودار ہے :''ثواب کے لئے اذان دینے والا اس شہید کی مانند ہے جو خون میں لتھڑا ہوا ہو اور جب مرے گا تو قبر میں اس کے جسم میں کیڑے نہیں پڑیں گے ۔''(الترغیب والترہیب ، ج۱،ص۱۱۲)

    (۳) سلطان ِ مدینہ صلی اللہ عليہ وسلم  کا فرمانِ باقرینہ ہے :'' جس نے ایمان کی بنا پر حصول ِ ثواب کے لئے پانچوں نمازوں کی اذان کہی اس کے پچھلے گناہ معاف کردئيے جائیں گے ۔''(کنزالعمال ،رقم ۲۰۹۰۲،ص۲۸۷)

    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان اذان دینے میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم
 (18) اذان واقامت کا جواب دینا
    (۱) امیر المومنین حضرتِسیدنا عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رحمتِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم  نے فرمایا'' جب مؤذن
اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ
کہے تو تم میں سے کوئی
اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ
کہے، پھر مؤذن
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلاَّاللہُ
کہے تووہ شخص
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ
کہے، پھر مؤذن
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ
کہے تووہ شخص
اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ
کہے ،پھر مؤذن
حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ
کہے تووہ شخص
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
کہے ،پھر مؤذن
حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ
کہے تو وہ شخص
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ
کہے ، پھرجب مؤذن
اَللہُ
Flag Counter