( مجمع الزوائد،کتاب الصلوۃ ، باب فیمن یمر بین یدی المصلی، الحدیث:۲۳۰۲،ج۲،ص۲۰۲)
(3)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تم ميں سے کسی کا 100سال تک کھڑے رہنا اپنے نماز پڑھتے ہوئے بھائی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے۔''
( جامع الترمذی ،ابواب الصلوۃ ، باب ماجاء فی کراھیۃ المرور۔۔۔۔۔۔ الخ ، الحدیث ۳۳۶ ، ص ۱۶۷۳)
(4)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اگر تم ميں سے کوئی جان لے کہ رب عزوجل سے مناجات کرنے والے اپنے مسلمان بھائی کے سامنے سے گزرنے ميں کيا (سزا) ہے تو اسے اس جگہ 100سال تک کھڑے رہنا اس کے سامنے دوقدم چلنے سے زيادہ پسندہوتا۔''
( المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ، الحدیث ۸۸۴۶ ، ج۳ ، ص ۳۰۴)
(5)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جب تم ميں سے کوئی شخص کسی ايسی چيز کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہا ہو جو ا سے لوگوں سے چھپاتی ہے پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے اپنے سامنے سے ہٹا دے اگر گزرنے والانہ مانے تو اس سے جھگڑا کرے کيونکہ وہ شيطان ہے۔''
( صحیح البخاری ،کتاب الصلوۃ،باب یرد المصلی من مر بین یدیہ ، الحدیث ۵۰۹ ، ص ۴۲)
(6)۔۔۔۔۔۔ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''نمازی کو چاہے کہ کسی کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دے اگر وہ نہ مانے تو اس سے جھگڑا کرے کيونکہ وہ اپنے قرين یعنی شيطان کی اطاعت کر رہا ہے۔''
( صحیح مسلم ،کتاب الصلوۃ ، با ب منع المار بین یدی المصلی ، الحدیث:۱۱۳۰، ص ۷۵۷)
(7)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آدمی کا راکھ ميں پناہ چاہنا جان بوجھ کر نمازی کے سامنے سے گزرنے سے بہتر ہے۔''
( التمھیدلابن عبدالبر،ابوالنضرمولی عمر بن عبیداللہ ، تحت الحدیث۵۹۶ /۱،ج۸ ، ص ۴۷۸)