(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدناابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :'' گودنے والیوں، گدوانے واليوں، چہرے کے بال نوچنے واليوں، خوبصورتی کے لئے دانتوں کے درميان فاصلہ کرنے واليوں اور اللہ عزوجل کی تخليق کو بدلنے واليوں پراللہ عزوجل کی لعنت ہو۔''ايک عورت نے ان سے اس بارے میں دریافت کيا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمايا :'' ميں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے لعنت فرمائی ہے اور اس کا حکم قرآنِ پاک ميں يوں مذکور ہے :
وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ
ترجمۂ کنز الایمان : اور جو کچھ تمہيں رسول عطا فرمائيں وہ لو اور جس سے منع فرمائيں باز رہو۔ (پ28، الحشر:7)
( المرجع السابق،الحدیث ۴۸۸۶)
(3)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہمافرماتے ہيں :''بغیر کسی مرض کے بال جوڑنے، جڑوانے ، چہرے کے بال نوچنے ، نوچوانے ، گودنے اور گدوانے والی پر لعنت کی گئی ہے۔''
( سنن ابی داؤد ،کتاب الترجل ، باب فی صلۃ الشعر ، الحدیث ۴۱۷۰ ، ص ۱۵۲۶ )
ا؎: سُوئی وغیرہ سے جسم میں چھید لگا کر اس میں رنگ یا سرمہ بھردینے کوگودناکہتے ہيں۔