Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
439 - 857
    ميں نے پوچھا :''يہ  کون ہے؟'' تو انہوں نے کہا :''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آگے چلیں۔'' ہم چل دئيے يہاں تک کہايک باغ ميں پہنچے اس ميں موسمِ بہار کے پھول کھلے ہوئے تھے، باغ کے درميان ايک دراز قد شخص کھڑا تھا، آسمان سے باتيں کرتی ہوئی اس کی بلندی کے باعث ميں اس کا سر نہ ديکھ سکا، اس شخص کے گرد اتنے بچے تھے جتنے ميں نے کسی کے نہيں ديکھے۔

    ميں نے پوچھا :''يہ  شخص کون ہے اور یہ بچے کون ہيں؟'' تو انہوں نے کہا :''آگے چلیں۔'' لہذا ہم چل دئيے پھر ہم ايک اتنے بڑے باغ ميں پہنچے جتنا بڑا اور خوبصورت کوئی باغ ميں نے نہيں ديکھا، انہوں نے مجھ سے کہا :''اس پر چڑھيں۔'' چنانچہ ہم اس پر چڑھ گئے تو ہميں ايک شہر نظر آيا جس کی ايک اينٹ سونے کی اور ايک چاندی کی تھی، جب ہم شہر کے دروازے پر پہنچے اور اسے کھولنے کے لئے کہا تو وہ ہمارے لئے کھول ديا گيا، ہم اس کے اندر داخل ہوئے تو اس ميں ايسے لوگوں سے ملے جن کا نصف بدن تو اتنا خوبصورت تھاجتنا تم نے نہ ديکھا ہو اور نصف اتنا بدصورت کہ جتنا تم نے نہ ديکھا ہو، ان فرشتوں نے ان لوگوں سے کہا :''جاؤ اوراس نہر ميں کُود پڑو۔'' وہ نہر چوڑائی ميں بہہ رہی تھی اور اس کا پانی بالکل سفيد تھا وہ لوگ جا کر اس نہر ميں کود پڑے، پھر جب وہ لوٹ کر ہمارے پاس آئے تو ان کی بدصورتی دور ہو چکی تھی اوروہ خوبصورت ہو گئے تھے۔

    ان فرشتوں نے مجھ سے کہا :''يہ  باغِ عدن ہے اور يہ  آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا مکان ہے۔'' ميں نے نگاہ اٹھا کر ديکھا تو وہ سفيد ابريعنی  بادل کی طرح تھا، ميں نے ان سے کہا :''اللہ عزوجل تمہيں برکت دے مجھے اس کے اندر جانے دو۔'' انہوں نے جواب دیا :''ابھی نہيں، ليکن آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس ميں ضرور داخل ہو ں گے۔''

    پھر ميں نے ان سے کہا :''رات بھر ميں نے جو عجيب چيزيں ديکھيں وہ کيا ہيں؟'' تو انہوں نے کہا :''ہم ابھی عرض کئے ديتے ہيں، جس پہلے شخص کے پاس آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پہنچے تھے اور جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا وہ قرآن پڑھ کر بھلانے والا اور نماز کے وقت سو جانے والا تھا، وہ شخص جس کے پاس آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پہنچے تو اس کے جبڑے، نتھنے اور آنکھ کو گدی تک چيرا جا رہا تھا يہ  وہ شخص تھا جو صبح گھر سے نکلتا تو جھوٹی باتيں گھڑتا اور انہيں دنيا بھر ميں پھیلا ديتا، وہ ننگے مرد اور عورتيں جو تنور سے مشابہ جگہ ميں تھے وہ زانی مرد اورزانی عورتيں تھيں، وہ شخص کہ جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کے پاس پہنچے تو وہ نہر ميں تير رہا تھا اور اس کے منہ ميں پتھر ڈالے جا رہے تھے وہ سود خور تھا،اور وہ ہیبت ناک صورت والاشخص جو آگ کے قريب تھا اور اسے بھڑکا کر اس کے اردگرد دوڑ رہا تھا وہ داروغۂ جہنم (یعنی جہنم پرمقررفرشتے)حضرت مالک علیہ السلام تھے اوربلندقامت آدمی جو باغ ميں تھے وہ حضرت سیدنا ابراہيم علی نبینا و علیہ الصلوٰۃ والسلام تھے اور ان کے گرد جو بچے تھے وہ فطرتِ اسلاميہ  پر فوت ہونے والے تھے۔'' 

    راوی کا بيان ہے کہ بعض صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی :''يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اور مشرکين کے