اللہ عزوجل چاہتا وہ اپنا خواب بيان کر ديتا۔'' چنانچہ ايک صبح آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا :آج رات ميرے پاس دو فرشتے آئے، انہوں نے مجھے اٹھايا اور کہا :''چلیں۔'' ميں ان کے ساتھ چل ديا، ہم ايک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو ليٹا ہوا تھا جبکہ دوسرا شخص اس کے قريب پتھر لئے کھڑاتھا، وہ اس کے سر پر پتھر مارتا جس سے وہ پھٹ جاتا پھر وہ پتھر لُڑھک کر دور جا گرتا اور وہ شخص پتھر اٹھانے کے لئے چلا جاتا اس کے لوٹنے سے پہلے ہی اس کا سر پہلے کی طرح درست ہو جاتا، پھر وہ واپس آ کر اس کے سر پر اسی طرح پتھر مارتا جس طرح پہلی دفعہ مارا تھا،
ميں نے ان دونوں فرشتوں سے کہا ''سُبْحَانَ اللہ !يہ کون ہيں؟'' تو انہوں نے کہا :'' آگے چلیں۔'' لہٰذا ہم چل دئيے، پھر ہم ايک ايسے شخص کے پاس پہنچے جو چت ليٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص اس کے پاس کھڑا تھا اور آنکس (یعنی لوہے کا ايسا راڈ جس کا ایک سرا قدرے مڑا ہوتا ہے ) کے ذريعے اس کے جبڑے، نتھنے اور آنکھ کو گدی تک چير ديتا تھا۔''ابو عوف کہتے ہيں کہ کبھی ابو رجاء يوں بيان کرتے :''وہ چير کر دوسری جانب چلا جاتا اور وہاں بھی ايسا ہی کرتا جيسا پہلی طرف کيا تھا جب وہ ايک جانب چير کر فارغ ہوتا تو دوسری جانب پہلے کی طرح درست ہو چکی ہوتی، پھر وہ دوبارہ ويسے ہی کرتا جيسے پہلی مرتبہ کيا تھا۔
ميں نے پھر کہا:''سُبْحَانَ اللہ !يہ کون ہيں؟'' تو انہوں نے کہا :''اور آگے چلیں۔'' لہٰذا ہم چل دیئے يہاں تک کہ تنور جيسی ايک چيز کے پاس پہنچے۔'' راوی کہتے ہيں، ميرا خيال ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے يہ بھی فرمايا :''اس ميں سے شور و غل کی آوازيں آرہی تھيں، میں نے اس ميں جھانک کر ديکھا تو اس ميں ننگے مرد اور عورتيں نظر آئيں جب انہيں نيچے سے آگ کی لپٹ پہنچتی تو چيخنے چلانے لگتے۔
ميں نے پوچھا :''يہ کون ہيں؟'' تو انہوں نے کہا :''مزید آگے چلیں۔'' لہٰذا ہم چل دئيے يہاں تک کہ ہم ايک نہر پر پہنچے۔'' راوی کہتے ہيں، ميرا خيال ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نےيہ بھی فرمایاتھا :''وہ نہر خون کی طرح سرخ تھی، نہر کے اندر ايک شخص تير رہا تھا جبکہ دوسرا شخص نہر کے کنارے کھڑا تھا اور اس کے پاس بہت سے پتھر جمع تھے، جب وہ اندر والا تيرتا ہوا اس شخص کے قريب آتا جس کے پاس بہت سے پتھر جمع تھے تو آ کر اپنا منہ کھول ديتا اور يہ اس کے منہ ميں پتھر ڈال ديتا اور وہ تيرتا ہوا واپس چلا جاتا اور جب واپس لوٹ کر آتا تو اسی طرح يہ اس کے منہ ميں پتھر ڈال ديتا۔''
ميں نے ان دونوں سے پوچھا :''يہ کون ہيں؟'' تو انہوں نے مجھ سے کہا :''مزید آگے چلیں۔'' تو ہم چل دئيے يہاں تک کہايک نہايت ہی بدصورت آدمی کے پاس پہنچے اتنا بدصورت کہ تم نے کبھی ديکھا نہ ہو، اس کے پاس آگ تھی جسے وہ بھڑکا رہاتھااور اس کے گرد دوڑ رہا تھا۔