| جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول) |
(9)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بے شک يہ نماز يعنی عصر تم سے پہلی اُمتوں پر پيش کی گئی تو انھوں نے اسے ضائع کر ديا، لہٰذا آج تم ميں سے جو اس کی حفاظت کریگا اس کے لئے دو اَجر ہيں اور اس نماز کے بعد ستارے ظاہر ہونے تک کوئی نماز نہيں۔''
( صحیح مسلم ،کتاب صلاۃ المسافر ین ، باب الاوقات التی نہی عن الصلاۃ ۔۔۔۔۔۔الخ الحدیث ۱۹۲۷ ، ص ۸۰۷)
(10)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''جس نے نمازِ عصر ترک کی تو اس کا عمل برباد ہو گیا۔''
(صحیح البخاری ،کتاب مواقیت الصلاة ، باب من ترک العصر ، الحدیث ۵۵۳ ، ص ۴۵)
(11)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے نمازِ عصر جان بوجھ کر چھوڑی یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئی تو اس کا عمل ضائع ہو گیا۔''
( المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث بر یدۃ الاسلمی ، الحدیث۲۳۱۰۷ ، ج ۹ ، ص ۳۱،بتغیرٍقلیلٍ)
(12)۔۔۔۔۔۔دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے نمازِ عصر میں بلا عذر تاخیر کی یہاں تک کہ سورج چھپ گیا تو اس کا عمل برباد ہو گیا۔''
(مصنف ابن ابی شیبہ ، کتاب الصلاۃ ، باب فی التفریط فی الصلاۃ ، الحدیث ۸/۲،ج۱، ص۳۷۷)
(13)۔۔۔۔۔۔سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''تم میں سے کسی کے اہل اور مال میں کمی کر دی جائے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے کہ اس کی نمازِ عصر فوت ہو جائے۔''
( مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ، باب وقت صلاۃ العصر ، الحدیث ۱۷۱۵ ، ج ۲ ، ص ۵۰)
(14)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس نے جان بوجھ کر نمازِ عصر میں اتنی تاخیر کی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا تو گویا اس کے اہل اور مال میں کمی کر دی گئی۔''
( المسند للامام احمد بن حنبل ،المسند عبداللہ بن عمر الخ ،الحدیث ۵۴۶۸ ، ج۲ ، ص ۳۶۸ )
(15)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''جس کی نماز فوت ہو گئی تو گویا اس کے اہل اور مال میں کمی کر دی گئی۔''
( السنن الکبری للبیہقی،کتاب الصلاة ، باب کراھیۃ تا خیر العصر، الحدیث:۲۰۹۵،ج۱، ص۶۵۳)
(16)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ روايت کرتے ہيں کہ سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اکثر اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے فرمايا کرتے :''کيا تم ميں سے کسی نے کوئی خواب ديکھا ہے؟'' راوی کہتے ہيں کہ ـــ''جس کو