ترجمۂ کنز الایمان:تو ان نمازيوں کی خرابی ہے جو اپنی نمازسے بھولے بيٹھے ہيں۔(پ30، الماعون:5۔4)
حضورنبی کریم، رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس کی تفسیرمیں ارشاد فرما يا :''يہ وہ لوگ ہوں گے جونمازوں کوان کاوقت گزارکرپڑھاکرتے ہوں گے ۔''
(کتاب الکبائر،الکبیرۃ الرابعۃفی ترک الصلوٰۃ،ص۱۹)
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے۔
اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوْقُوۡتًا ﴿103﴾
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔(پ5، النساء:103)
(2)۔۔۔۔۔۔ايک دن مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے نماز کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمايا کہ ''جو نماز کی پابندی کریگا يہ اس کے لئے نور، برہان يعنی رہنما اور نجات ثابت ہو گی اور جو اس کی پابندی نہيں کریگا اس کے لئے نہ نور ہو گا، نہ برہان اور نہ ہی نجات کا کوئی ذريعہ اور وہ شخص قيامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور اُبی ّ بن خلف کے ساتھ ہو گا۔''
( المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند عبداللہ بن عمر بن العا ص ، الحدیث ، ۶۵۸۷، ج۲ ، ص ۵۷۴)
بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمايا ہے :''بے نمازی کا حشر ان لوگوں کے ساتھ اس لئے ہو گا کہ اگر اسے اس کے مال نے نماز سے غافل رکھا تو وہ قارون کے مشابہ ہے لہٰذا اس کے ساتھ اٹھايا جائے گا اور اگر ا س کی حکومت نے اسے غفلت ميں ڈالا تو وہ فرعون کے مشابہ ہے لہٰذا اس کا حشر اس کے ساتھ ہو گا يا اس کی غفلت کا سبب اس کی وزارت ہو گی تو وہ ہامان کے مشابہ ہوا لہٰذا اس کے ساتھ ہو گا يا پھر اس کی تجارت اسے غفلت ميں ڈالے گی لہٰذا وہ مکہ کے کافر اُبی ّ بن خلف کے مشابہ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ اٹھايا جائے گا۔''
(کتاب الکبائر،الکبیرۃ الرابعۃفی ترک الصلوٰۃ،ص۲۱)
(3)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا سعدبن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ ميں نے حضورنبئ کریم ،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے اللہ عزوجل کے اس فرمان :
''الَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ ۙ﴿5﴾
ترجمۂ کنز الایمان:جو اپنی نمازسے بھولے بيٹھے ہيں۔''(پ۳۰، الماعون:۵)کے بارے ميں دریافت کیا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''يہ وہ لوگ ہيں جو نماز کو