ترجمۂ کنز الایمان:توان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازيں گنوائيں اور اپنی خواہشوں کے پيچھے ہوئے تو عنقريب وہ دوزخ ميں غی کا جنگل پائيں گے مگر جو تائب ہوئے۔(پ6ا، مريم:59تا60)
حضرت سيدناابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آيت مبارکہ کی تفسير کرتے ہوئے فرماتے ہيں :''نماز ضائع کرنے کا مطلب يہ نہيں کہ وہ انہيں بالکل چھوڑ ديتے تھے بلکہ وہ وقت گزار کر نماز پڑھتے تھے۔''
امام التابعين حضرت سيدنا سعيد بن مسيب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں :'' وقت گزار کر نماز پڑھنے کا مطلب يہ ہے کہ کوئی شخص ظہر کی نماز کو اتنا مؤخر کر دے کہ عصر کا وقت شروع ہو جائے اور مغرب کا وقت شروع ہونے سے پہلے عصر کی نماز نہ پڑھے، اسی طرح مغرب کو عشاء تک اور عشاء کو فجر تک اور فجر کو طلوعِ آفتاب تک مؤخر کر دے، لہٰذا جو شخص ايسی حالت پر اصرار کرتے ہوئے مر جائے اور توبہ نہ کرے تو اللہ عزوجل نے اس کے ساتھ غَیّ کا وعدہ فرمايا ہے۔غَیّ جہنم کی ايک ايسی وادی ہے جس کا پيندہ بہت پست اور عذاب بہت سخت ہے۔''
(کتاب الکبائر،الکبیرۃ الرابعۃفی ترک الصلوٰۃ،ص۱۹)
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُلْہِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُکُمْ عَنۡ ذِکْرِ اللہِ ۚ وَ مَنۡ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوۡنَ ﴿9﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اے ايمان والوتمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چيز تمہيں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ايسا کرے تو وہی لوگ نقصان ميں ہيں۔(پ28، المنافقون:9)
مفسرين کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی ايک جماعت کا قول ہے :''اس آيت مبارکہ ميں ذِکْرِاللہ سے مراد پانچ نمازيں ہيں، لہٰذا جو اپنے مال مثلاً خريد وفروخت يا پیشے يا اپنی اولاد کی وجہ سے نمازوں کو ان کے اوقات ميں ادا کرنے سے غفلت اختيار کریگا وہ خسارہ پانے والوں ميں سے ہو گا۔''
(کتاب الکبائر،الکبیرۃ الرابعۃفی ترک الصلوٰۃ،ص۲۰)
(1)۔۔۔۔۔۔اسی لئے سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بندے سے قيامت کے دن سب سے پہلے جس عمل کے بارے ميں حساب ليا جائے گا وہ اس کی نماز ہو گی اگر اس کی نماز درست ہوئی تو وہ نجات و فلاح پاجائے گا