(35)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدناابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :''جو نماز نہ پڑھے اس کا کوئی ايمان نہيں اور جو وضو نہ کرے اس کی کوئی نماز نہيں۔''
(کنزالعمال، کتاب الصلوۃ ،ا لباب الاول فی فضلھا ووجوبھا ،الحدیث ۲۱۶۴۲ ، ج۸ ، ص ۷)
(36)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے نماز چھوڑی اس نے کفر کيا۔''
( صحیح ابن حبان،کتاب الصلاۃ ، باب الوعید علی تر ک الصلاۃ ، الحدیث ۱۴۶۱ ، ج ۳، ص۱۳)
(37)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا محمد بن نصر ارشاد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں کہ ميں نے حضرت سیدنا اسحاق رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے صحيح سند کے ساتھ يہ بات مروی ہے :''تارکِ نماز کافر ہے۔''
( الترغیب والترھیب ،کتاب الصلاۃ ، الترھیب من ترک الصلاۃ تعمد ا ۔۔۔۔۔۔الخ الحدیث ۸۳۴ ، ج ۱ ، ص ۲۶۱)
خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے عہد مبارک ميں اہلِ علم کی يہی رائے تھی کہ بغير عذر کے جان بوجھ کر نماز کو اتنا مؤخر کرنے والا کہ نماز کا وقت ہی چلا جائے کافر ہے۔حضرت سیدنا ايوب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہيں کہ ''نماز تر ک کرنا ايسا کفر ہے جس ميں کسی کا اختلاف نہيں۔''۱؎
۱؎ :''بہار شریعت'' میں ہے: ''نماز کی فرضيت کا منکر کافر اورجو قصداً چھوڑے اگرچہ ايک ہی وقت کی وہ فاسق ہے اور جو نماز نہ پڑھتا ہو قيد کيا جائے يہاں تک کہ نمازپڑھنے لگے۔''( بہار شريعت،ج۱،حصہ۳،ص۹)