Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
430 - 857
 (13)۔۔۔۔۔۔سیدناامام ترمذی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ روایت کرتے ہیں :''سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان نماز چھوڑنے کے علاوہ کسی عمل کے چھوڑنے کو کفر نہ سمجھا کرتے تھے۔''
 (جامع التر مذی ،ابواب الایمان ، باب ماجاء فی ترک الصلاۃ،الحدیث:۲۶۲۲، ص ۱۹۱۶)
 (14)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بندے اور کفر وایمان کے درمیان فرق نماز ہے، لہذا جس نے اس کو چھوڑا اس نے شرک کیا۔''
 ( جامع الترمذی ،ابواب الایمان ، باب ماجاء فی ترک الصلاۃ ، الحدیث:۲۶۲۰ ،۱۸ ۲۶،ص۱۹۱۶،بدون''من ترکہافقد أشرک'')
 (15)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''جس کی نماز نہيں اس کا اسلام ميں کوئی حصہ نہيں اور جس کا وضو نہيں اس کی نماز نہيں۔''
 ( کنزالعمال،کتاب الصلاۃ ، التر ھیب عن ترک الصلاۃ،الحدیث:۱۹۰۹۴،ج۷ ، ص۱۳۳)
 (16)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس کی امانت نہيں اس کا کوئی ايمان نہيں، جس کی طہارت نہيں اس کی کوئی نماز نہيں اور جس کی نماز نہيں اس کا کوئی دين نہيں کيونکہ نماز کا دين ميں وہی مقام ہے جو سر کا جسم ميں ہے۔''
               ( المعجم الاوسط ، الحدیث ۲۲۹۲، ج۱ ، ص ۶۲۶)
 (17)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں:''ميرے خليل صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے وصيت فرمائی کہ ''کسی کو اللہ عزوجل کا شريک نہ ٹھہرانا اگرچہ تمہيں ٹکڑے ٹکڑے کر ديا جائے يا جلا ديا جائے، فرض نماز جان بوجھ کر نہ چھوڑنا کيونکہ جو جان بوجھ کر نماز چھوڑ ديتا ہے اس سے امان اٹھا لی جاتی ہے اور شراب ہرگز نہ پينا کيونکہ يہ ہر برائی کی جڑ ہے۔''
 ( سنن ابن ماجہ ،ابواب الاشربۃ ، با ب الخمر مفتا ح کل شر، الحدیث ۴۰۳۴، ص۲۷۲۰)
 (18)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہيں کہ جب ميری آنکھوں کی سياہی باقی رہنے کے باوجود ميری بينائی جاتی رہی تو مجھ سے کہا گيا :''ہم آپ کا علاج کرتے ہيں کيا آپ کچھ دن نماز چھوڑ سکتے ہيں؟'' تو ميں نے کہا :''نہيں، کیونکہ دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''جس نے نماز چھوڑی تو وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب فرمائے گا۔''
 ( مجمع الزوائد،کتاب الصلاۃ،باب فی تارک الصلاۃ،الحدیث:۱۶۳۲،ج ۲،ص ۲۶)
 (19)۔۔۔۔۔۔ايک شخص نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ ميں حاضر ہوکر عرض کی''يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کوئی ايسا عمل بتائیے جسے ميں کروں تو جنت ميں داخل ہو جاؤں۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''کسی کو اللہ عزوجل کا شريک نہ ٹھہراؤ اگرچہ تمہيں عذاب ديا جائے يا جلا ديا جائے، اپنے والدين کی اطاعت
Flag Counter