Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
429 - 857
(6)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ہمارے اور کفار کے درميان پہچان نماز ہے، لہٰذا جس نے نماز کو ترک کيا اس نے کفر کيا۔''
( سنن ابن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا،باب ماجاء فیمن ترک الصلوٰۃ الحدیث،۱۰۷۹،ص۲۵۴۰)
(7)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی تو اس نے کھلم کھلا کفر کیا۔''
             ( المعجم الاوسط ،الحدیث ۳۳۴۸ ، ج ۲ ، ص ۲۹۹)
 (8)۔۔۔۔۔۔ رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دل کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ''بندے اور کفر یا شرک کے درمیان فرق نمازکو چھوڑنا ہے لہذا جب اس نے نماز چھوڑ دی تو اس نے کفر کیا۔''
 (مسندابی یعلٰی الموصلی،الحدیث ۴۰۸۶،ج۳،ص۳۹۷)
 (9)۔۔۔۔۔۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بندے اور شرک کے درمیان سوائے نماز ترک کرنے کے کچھ فرق نہیں لہذا جب اس نے نماز چھوڑ دی تو اس نے شرک کیا۔''
 (سنن ابن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا،باب ماجاء فیمن ترک الصلاۃ الحدیث،۱۰۸۰، ص۲۵۴۰)
 (10)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اسلام کا تاج اوردين کے قواعد (یعنی بنياديں) تين ہيں جن پر اسلام کی بنياد ہے، جس نے ان ميں سے کسی ايک کو چھوڑا وہ اس کا منکر ہے اور اس کا خون حلال (یعنی قتل جائز)ہے: (۱)اللہ عزوجل کی وحدانيت کی گواہی دینا (۲)فرض نماز اور (۳)رمضان کے روزے۔''
 ( مسند ابی یعلیٰ الموصلی ، الحدیث ۲۳۴۵ ، ج ۲ ، ص ۳۷۸ بدون''ولا یقبل منہ صرف ولا عدل '')
 (11)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے ان تينوں(یعنی توحید،فرض نماز اور رمضان کے روزے) ميں سے ايک کو چھوڑا وہ اللہ عزوجل کا منکر ہوا اور اس کی فرض عبادت قبول ہو گی نہ نفل، بلکہ اس کا خون اور مال حلال ہو گئے۔''
 (المرجع السابق،الحدیث:۲۳۴۵،ج۲،ص۳۷۸،بدون''ولا یقبل منہ صرف ولا عدل '')
 (12)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ ميرے خليل صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے سات کاموں کی وصيت کی اور ارشاد فرمايا :''کسی چيز کو اللہ عزوجل کا شريک نہ ٹھہراؤ اگرچہ تمہيں ٹکڑے ٹکڑے کر ديا جائے يامحروم کر ديا جائے يا پھانسی پر لٹکا ديا جائے، جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑنا کيونکہ جو جان بوجھ کر نماز چھوڑے گا وہ ملت سے خارج ہو جائے گا، نافرمانيوں پر کمر نہ باندھو کيونکہ يہ اللہ عزوجل کی ناراضگی والے کام ہيں اور شراب نہ پیؤکيونکہ يہ تمام برائیوں کی جڑہے۔''
Flag Counter