مَا سَلَکَکُمْ فِیۡ سَقَرَ ﴿42﴾قَالُوۡا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ43﴾وَ لَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیۡنَ ﴿ۙ44﴾وَ کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الْخَآئِضِیۡنَ ۙ﴿45﴾
ترجمۂ کنز الایمان:تمہيں کيا بات دوزخ ميں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکين کو کھانا نہ ديتے تھے اوربيہودہ فکر والوں کے ساتھ بيہودہ فکريں کرتے تھے۔(پ29، المدثر:42تا45) (1)۔۔۔۔۔۔سیدناامام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے روایت کیا ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آدمی اور کفر کے درميان نماز کوچھوڑنے کا فرق ہے۔''
(مسند احمد بن حنبل،الحدیث:۱۵۱۸۵،ج ۵،ص۹۹ ۱)
(2)۔۔۔۔۔۔سیدناامام مسلم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی روایت یوں ہے کہ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آدمی اور شرک یا کفر کے درمیان فرق نماز کوچھوڑنا ہے۔''
( صحیح مسلم،کتاب الایمان ،باب بیان اطلاق اسم الکفر۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۲۴۶،ص۶۹۲)
(3)۔۔۔۔۔۔سیدناامام ابو داؤد اورسیدنا امام نسائی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما کی روایت اس طرح ہے کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آدمی اور کفر کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔''
(سنن النساءی،کتاب الصلوٰۃ،باب الحکم فی تارک الصلاۃ،الحدیث:۴۶۵،ص۲۱۱۷)
(4)۔۔۔۔۔۔سیدناامام ترمذی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یوں روایت کیا ہے کہ سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ''کفر اور ايمان کے درميان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔''
(جامع الترمذی ،ابواب الایمان ، باب ماجاء فی تر ک الصلاۃ،الحدیث ۲۶۱۸،ص۱۹۱۶)
(5)۔۔۔۔۔۔سیدناامام ابن ماجہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی روایت یوں ہے کہ خاتَم ُالْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز کوچھوڑنا ہے۔''
( سنن ا بن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا ، باب ماجاء فیمن تر ک الصلوٰۃ الحدیث ، ۱۰۷۸ ، ص ۲۵۴۰)