Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
426 - 857
    حاصل کلام یہ ہے کہ ہمارے شافعی مذہب ميں معتمد بات يہی ہے کہ ستر کھولنا مطلقاً صغيرہ گناہ ہے مگر لوگوں کی موجودگی ميں ايسا کرنا مروّت کو کم کر ديتا ہے اور باہمی فخر کی کمی کو واجب کرتا ہے، جس سے شہادت باطل ہو جاتی ہے اور سیدنا حداد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب اَدْبُ الْقَضَاء کے حوالے سے اور اس کے بعد جو بات گزری اس کواسی پر محمول کيا جائے گا اور کبيرہ گناہ کی تعريف ميں کيا گيا کلام بھی اس پر دلالت کرتا ہے، ہمارے اصحاب نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ لوگوں کے سامنے بغير ضرورت ستر کھولنا کبيرہ گناہ ہے۔

تنبیہ2:

    وہ آخری حدیثِ پاک جس ميں ديکھنے والے اور دکھانے والے پر لعنت آئی ہے، اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ستر کی طرف ديکھنا کبيرہ گناہ ہے اور اسے کھولنا بھی کبيرہ گناہ ہے کيونکہ ہم يہ بات بيان کر چکے ہيں کہ لعنت کبيرہ گناہوں کی علامات ميں سے ہے اور يہ بات بھی اس کی تائيد کرتی ہے کہ اجنبيہ يا اَمرَد(یعنی خوبصورت لڑکے) کو بغير حاجت عمداً ديکھنا فسق ہے، اس کے نقصانات کا ذکر عنقريب آئے گا۔