Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
425 - 857
     حضرت سیدنا ابراہيم بن عتبی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :''لوگوں کے سامنے ستر ظاہر کرنا فسق مغلظ يعنی دُوگنی برائی ہے اور حمام ميں کھولنا اس سے قدرے کم برا ہے۔''

    طبقات العبادی ميں ہے کہ سیدنا مزنی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سیدنا امام شافعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کيا کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے حمام ميں برہنہ نظر آنے والے شخص کے بارے ميں فرمايا کہ اس کی گواہی مقبول نہيں کيونکہ ستر پوشی فرض ہے۔''

    سیدنا توحيدی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کتاب البصائر ميں سیدنا مزنی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے اس طرح کی روايت نقل کی ہے مگر اس ميں برہنہ نظر آنے کے بجائے ستر نظر آنے کا ذکر ہے اور يہ روايت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ايک مرتبہ ايسا کرنے پر بھی وہ شخص فاسق کہلائے گااور يہ معاملہ کبيرہ گناہ ہی کا ہے۔

    سیدناابن شريح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے ہم عصرسیدنا حسن بن احمد حدادبصري    رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی کتاب ادب القضاء کی يہ بات بھی اس کے موافق ہے کہ سیدنا ذکريا ساجی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمايا :''جو شخص حمام يا نہر ميں ستر پوشی کے بغير داخل ہو اس کی گواہی قبول کرنا جائز نہيں۔''

    سیدنا ابو بکر احمد بن عبد اللہ بن سختيانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سیدنا مزنی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی سند سے سیدنا امام شافعی علیہ رحمۃاللہ الکافی سے روایت کرتے ہوئے اسے بطورسند ذکر کيا ہے، پھر سیدنا حداد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمايا کہ سیدنا زکريا رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہيں: ''يہ بات زيادہ مناسب ہے اگرچہ اس کا ستر ديکھنے والا کوئی نہ ہو کيونکہ اس کا يہ عمل مروَّت ميں سے نہيں۔'' سیدنا حداد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ان کی رائے کو درست قرار ديا اور فرمايا :''يہ عمل مروّت کو ساقط کر ديتا ہے اگرچہ تنہائی ميں ايسا کرنا گناہ نہيں۔''

    سیدنا ابن سراقہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے اَدبُ الشَّاہِدْميں صراحت کی ہے :''لوگوں کے سامنے ستر ظاہر کرناگواہی کو ساقط کر ديتا ہے۔'' مگر انہوں نے اس ميں اس قيد کا اضافہ کيا ہے :''جبکہ وہ بلا ضرورت ايسا کرے۔''

    فَتَاوٰی الشَّاشِیْ ميں ہے :''حمام ميں ستر ظاہر کرنا عدالت (یعنی گواہ بننے کی صلاحیت)ميں نقص ڈالتا ہے۔'' سیدنا ابن برہان رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں :'' لوگوں کے سامنے ستر ظاہر کرنا عدالت ميں نقص ڈالتا ہے تنہائی ميں نہيں۔'' مگر شيخين نے اَلرَّوْضَۃميں اور اس کی اصل ميں صَاحِبُ الْعُدَّۃ نے اسے مطلقاً صغيرہ گناہ قرار ديا ہے، اور سیدنا حناطِی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا فتویٰ بھی اس کے موافق ہے کہ ''جو شخص حمام ميں بغير ازار کے داخل ہو اور وہ اس طرح کرنے کا عادی ہو جائے تو فاسق ہے۔''فسق کو تکرار کے ساتھ مقيد کرنا اس کے صغيرہ ہونے کی تصريح ہے، بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے خلوت ميں ستر کھولنے کے صغيرہ ہونے کو خلوت ميں بھی ستر پوشی کے وجوب پر محمول کيا ہے اگرچہ وہ کسی دیکھنے والے کی نظر سے محفوظ ہی کيوں نہ ہو۔