Brailvi Books

جہنم میں لیجانے والےاعمال (جلد اول)
424 - 857
حصہ ہے۔''
   (المعجم الکبیر،الحدیث:۲۱۴۹،ج۲،ص۲۷۳)
(40)۔۔۔۔۔۔رسول انور، صاحب کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''اپنی ران کو چھپا کر رکھو کیونکہ یہ بھی عورت(یعنی چھپانے کی چیز ) ہے۔''
 (جامع الترمذی،ابواب الأدب،باب ماجاء ان الفخذعورۃ،الحدیث:۲۷۹۸،ص۱۹۳۲)
 (41)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ:''ران چھپانے کی چیز ہے۔''
     (المرجع السابق،الحدیث:۲۷۹۵،ص۱۹۳۲)
 (42)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے سیدنا جرہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا :''اے جرہد(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! اپنی ران چھپا لو کيونکہ ران چھپانے کی چيز ہے۔''
         (المرجع السابق،الحدیث:۲۷۹۸،ص۱۹۳۲)

(المسند للامام حمدبن حنبل، الحدیث: ۱۵۹۳۲،ج۵،ص۳۹۵)
 (43)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اپنی ران ظاہر مت کرو اور نہ ہی کسی زندہ يا مردہ کی ران پر نظر ڈالو۔''
    (سنن ابی داؤد،کتاب الجنائز،باب فی ستر المیت عند غسلہ ، الحدیث: ۳۱۴۰،ص۱۴۵۹)
 (44)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ:''ایک مرد کا ستردوسرے مردکے لئے اسی طرح ہے جس طرح عورت کا ستر مردکے لئے ہے اورایک عورت کا ستر دوسری عورت کے لئے اسی طرح ہے جس طرح عورت کا ستر مرد کے لئے ہے۔''
 (المستدرک،کتاب اللباس،باب التشدیدفی کشف العورۃ،الحدیث:۷۴۳۸،ج۵،ص۲۵۳)
تنبیہ1:
    گذشتہ احادیثِ مبارکہ ميں بيان کردہ یہ بات کہ ''کسی کے سامنے ستر ظاہر کرنااللہ عزوجل کو ناپسند ہے۔''اس کے کبيرہ گناہ ہونے کا تقاضا کرتی ہے کيونکہ (ستر کھولے بغیر)بات چيت کرنا تو مباح ہے اس پر ناراضگی مرتب نہيں ہوتی اور حمام میں جانے سے متعلق ميں نے جو احادیثِ مبارکہ ذکر کی ہيں وہ ہماری بيان کردہ اس بات پر شاہد ہيں کہ مرد کا اپنی بيوی يا کنيز (جو اس کے لئے حلال ہو)کے علاوہ کسی کے سامنے شرمگاہ کھولناخواہ صغریٰ ہو يا کبریٰ کبيرہ گناہ ہے۔۱؎
۱؎ :احناف کے نزديک:'' مرد اپنی زوجہ يا باندی کی ايڑی سے چوٹی تک ہر عضو کی طرف نظر کر سکتا ہے شہوت اور بلا شہوت دونوں صورتوں ميں ديکھ سکتا ہے اسی طرح يہ بھی اس مردکے ہر عضو کو ديکھ سکتی ہيں، ہاں بہتر ہے کہ مقامِ مخصوص کی طرف نظر نہ کرے کہ اس سے نسيان پيدا ہوتا ہے اور نظر ميں بھی ضعف پيدا ہوتا ہے اس مسئلہ ميں باندی سے مراد وہ ہے جس سے وطی جائز ہے۔''
       (بہار شريعت،ج۲،حصہ۱۶،ص۵۷)
Flag Counter